قومی اثاثے اور پاکستانی قوم کا طرز عمل ۔۔۔ تلخ حقیقت

قدیر حسین چوہدری

اس بار اسپین سے پاکستان آنے کے لئے پروگرام بنانا شروع کیا تو پہلی سوچ یہی تھی کہ اس بار قومی ایئر لائن کی ‘لاجواب سروس’ سے مستفید نہ ہی ہوں تو بہتر ہے کیونکہ پی آئی اے پر کیے گئے کچھ سابقہ سفر اور مختلف ذرائع سے ملنے والی معلومات کی بناء پر بوریت بھرے سفر کے ذریعے وطن عزیز آنے کی خوشی ماند نہیں چاہتا تھا۔

آج کل سماجی رابطوں کی ویب سائٹس اطلاعات تک رسائی کا اہم ذریعہ ہیں، اکثر فیس بک، ٹویٹر اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پی آئی اے کے قصے پڑھنے اور سننے کو ملتے ہیں، جن میں سے زیادہ عام پروازوں کی آمد و روانگی میں تاخیر ہے۔ تقریباً سات گھنٹے کے فضائی سفر دو تین گھنٹے تاخیر ہو جائے تومیرے خیال میں بوریت بھرا ایسا سفر اپنے دیس واپسی کا سارا چاؤ اتارنے کیلئے کافی ہوتا ہے۔

ایسے ہی خدشات بھرے ذہن کے ساتھ ٹریول ایجنٹ کے پاس پہنچا اور مدعا بیان کیا کہ آٹھ، دس دن بعد کی مناسب قیمت پر ایئرٹکٹ چاہیے، جس میں اسپین سے پاکستان کے درمیان دبئی، قطر یا کسی اور ملک میں کم سے کم وقت (لے اوور) ہو۔ ٹریول ایجنٹ نے مجھے میرے بجٹ کے اندر ہی ایک دن بعد کی سیٹ موجودہ ہونے کی نوید سنائی اور بتایا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی  یہ پرواز سات گھنٹے دس منٹ میں بارسلونا سے براہ راست اسلام آباد پہنچائے گی۔

ٹکٹ خریدنے کے بعد اگلے دن ایئرپورٹ پہنچا تو پی آئی اے کے بورڈنگ کاؤنٹر پر کافی رش دیکھنے کو ملا، پاکستان جانے والوں کی خاصی تعداد ایئرپورٹ پر جمع تھی، میں بھی قطار میں لگ کر انتظار کرنے لگا۔ سامان جمع کرانے اور بورڈنگ پاس لینے کے بعد سیکورٹی اور امیگریشن کے مراحل گزرتے ہوئے انتظار گاہ تک پہنچے تو کچھ ہی دیر بعد پاکستانی پرچم بردار جہاز پیرس سے بارسلونا آن پہنچا۔

 فضائی میزبانوں کی جانب سے ایک ترتیب کے ساتھ ٹکٹ نمبر کال کئے گئے تاہم کچھ صاحبان نے ایسے دوڑ لگائی جیسے اگر جہاز ‘پہلے آئیں۔۔۔ پہلے پائیں’ کی بنیاد پر نشست ملنی ہو اور سستی کے مظاہرے پر شاید جی ٹی روڈ کی بس کی طرح کھڑے ہو کر سفر نہ کرنا پڑے۔ خیر ان کی تمام پھرتی اس وقت بے سود ثابت ہوئی جب ایئرہوسٹس نے انہیں ایک سائیڈ پر کھڑے ہونے اور بلائے گئے سیٹ نمبرز کو راستہ دینے کا کہا۔

جہاز میں سوار ہوتے ہی فضائی میزبانوں نے مسکراتے ہوئے السلام علیکم کہہ کر ٹکٹ دیکھتے ہوئے میری سیٹ کی طرف رہنما کی جہاں پہلے سے ایک ہم وطن براجمان تھے، جب انہیں بتایا کہ کھڑکی کی طرف والی سیٹ میری ہے تو انہوں نے اپنی سمجھ کے مطابق سیٹ نمبرز کی ترتیب پڑھ کر سنا دی تاہم ایئرہوسٹس کی تصدیق کے بعد موصوف نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی اصل نشست پر براجمان ہو گئے۔

طیارے میں سوار ہونے سے نشست پر براجمان ہونے کے درمیان کا مرحلہ بھی کسی معرکے کو سر کرنے کے مترادف تھا، ہر شخص اپنے ہینڈ کیری سامان نشست کے بالائی خانوں میں رکھنے کیلئے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے چکر میں تھے۔ ہم سے آنے والی نشست پر براجمان ایک صاحب کا ایئرہوسٹس کے ساتھ برتاؤ دیکھ کر بہت افسوس ہوا۔ موصوف کا فضائی میزبان کے ساتھ بات کرنے کا انداز انتہائی ہتک آمیز تھا وہ ایسے بات کر رہے تھے جیسے خاتون ان کی گھریلو ملازمہ ہوں اس سب کے باوجود ایئر ہوسٹس نے نہایت خندہ پیشانی کے ساتھ ان صاحب کی پریشانی دور کرنے کی کوشش کی۔

اس تمام تر صورتحال میں ان صاحب کے ساتھ والی نشست پر بیٹھے مسافر نے سب سے زیادہ ‘انجوائے’ کیا، ایئرہوسٹس کے ساتھ تو تڑاک اور بدتہذیبی سے پیش آنے والے شخص کے ہر جملے پر ساتھ بیٹھا شخص قہقہے لگاتا۔ بہرحال ہم وطنوں کے ایک دوسرے کے ساتھ مسئلے مسائل حل ہو جانے کے بعد جہاز نے 45 منٹ تاخیر سے اسلام آباد کے لئے اڑان بھری۔ دوران پرواز پی آئی اے کے عملے کا رویہ انتہائی پیشہ وارانہ تھا، پرواز ہموار ہونے کے ایک گھنٹے کے اندر فضائی مہمانوں کو کھانا فراہم کر دیا گیا ہر مسافر کو تین ڈشز میں سے چوائس دی گئی کہ وہ کیا کھانا چاہتے ہیں اِسی طرح مشروبات بھی دو تین اقسام کے تھے۔

طویل سفر میں میرے لئے جو بات تکلیف کا باعث بنی وہ پی آئی اے کے جہاز میں تفریح کا کوئی انتظام نہ ہونا تھا، شاید مجھے اس لئے بھی یہ کوفت زیادہ تھی کیونکہ مجھے سفر میں نیند نہیں آتی، اور 7 گھنٹے سے زائد کا سفر گزارنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ نشست کے آگے لگی سکرینز مکمل بلیک آؤٹ حالت میں روٹھی روٹھی سی خاموش تھیں۔ زیادہ کچھ نہیں لیکن اُس سکرین پر پرواز کا روٹ ہی اگر ڈسپلے ہوتا رہے تو مسافر کو کم از کم یہ تو علم ہوتا رہے کہ وہ اِس دُنیا کے کون سے حصے کے اُوپر ہے اور کتنا سفر باقی ہے۔

خیر مقررہ وقت سے 20 منٹ کی تاخیر سے جہاز اسلام آباد کے نئے ہوائی اڈے پر بخیریت اُتر گیا، عملے کی جانب سے سفر کے اختتامی کلمات اور پاکستانی سرزمین پر خوش آمدید کہا گیا اور مسافروں سے درخواست کی گئی کہ جہاز کے رُکنے تک اپنی اپنی نشستوں پر ٹِکے رہیں، جہاز رُکتے ہی سب کھڑے تھے اور اپنا اپنا سامان بالائی حصے سے اُتار کر باہر نکلنے کو منتظر تھے، دروازے کُھلنے اور ٹنل لگنے میں کوئی دس سے پندرہ منٹ خاصے بھاری محسوس ہورہے تھے، خدا خدا کرکے لائن چلنی شروع ہوئی جیسے جیسے میں باہر نکلنے کےلئے اگلے حصے کی طرف بڑھ رہا تھا تو مجھے خود سمیت جہاز میں سفر کرنے والے تمام مسافروں حیرت ہورہی تھی۔

بیرون ملک میں پیدل چلتے ہوئے بھی احتیاط کرنے والے پاکستانی اپنے ملک پہنچ کر قومی اثاثوں سے اتنے فری کیوں ہوجاتے ہیں، صفائی اور دیگر آداب کے سارے تقاضے بالائے طاق رکھ دیتے ہیں، جہاز کی نشستوں کے نیچے کُشن، کمبل، ہمسفر نامی رسائل، کاغذی گلاس ایسے بکھرے پڑے تھے کہ جیسے اس گند کے ذریعے پی آئی اے انتظامیہ سے انتقام لیا گیا ہو، بیرون ملک رہتے ہوئے دیار غیر کے قوانین پر سختی سے عمل کرنے والے اپنے ملک پہنچ کر تمام قاعدے قوانین سے خود کو مبرا کیوں سمجھتے ہیں۔

جہاز کے دروازے پر کھڑی ایئرہوسٹس نے مسکرا کر جب خُدا حافظ کہا تو مجھے اس کی نیک دلی کے ساتھ دی گئی مسکراہٹ میں عجیب سا طنز محسوس ہوا، مجھے یوں لگا جیسے وہ کہہ رہی ہو کہ پی آئی اے جیسے قومی اثاثے پر تنقید کرتے ہوئے جو لوگ تھکتے نہیں ان کا انفرادی طرز عمل کیسا رہا؟

Comments are closed.