حکومت ٹیکس اہداف حاصل کرنےمیں ناکام:قرضوں،مہنگائی میں اضافے کا اعتراف

اسلام آباد: حکومت نے رواں مالی سال کیلئے ٹیکس وصولیوں کے اہداف حاصل کرنے میں ناکامی، غیر ملکی قرضوں اور مہنگائی میں اضافے کا اعتراف کر لیا، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور کا کہنا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی سے قرضے بڑھے آئندہ سالوں میں قرضوں میں کمی آئے گی۔

ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا کی زیرصدارت سینیٹ کا اجلاس دو روز کے وقفے کے بعد آج پھر پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ہوا۔ وقفہ سوالات کے دوران ایوان بالا کو بتایا گیا کہ وفاقی حکومت مالی سال 20-2019ء کے پہلے چھ ماہ میں ٹیکس وصولیوں کے مقرر اہداف حاصل نہیں کر سکی، پہلی ششماہی کیلئے ریونیو کا ہدف2 ہزار 198ارب روپے رکھا گیا تھا جو پورا نہیں ہو سکا اور حکومت دو ہزار  85ارب ریونیو اکٹھا کر سکی۔

وفاقی وزیر اقتصادی امور حماد اظہر نے غیر ملکی قرضوں کے حجم میں اضافہ کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ جی ڈی پی کے مقابلے میں قرض کےحجم میں اضافہ کی وجہ روپے کی قیمت میں کمی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سال 2013 میں قرض کے مقابلے میں جی ڈی پی کا حجم 63.8 فیصد تھا، جو 2018 میں 72 فیصد تک پہنچ گیا اور اس وقت یہ حجم 78فیصد ہے۔ امید ہے آئندہ برسوں میں قرضے کا کل حجم جی ڈی پی کے مقابلے میں بہتر ہوگا۔ رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران مالی خسارہ 1922ارب روپے تک پہنچ گیا ہے مالی خسارہ جی ڈی پی کا پانچ فیصد ہے حکومت نے نو ماہ کے دوران 35ارب سے زائد مالیت کے قرضے لیے ہیں۔

اس موقع پر سینیٹر رحمان ملک نے حکومت سے سوال کیا کہ بجٹ خسارے، مہنگائی میں کمی کے ساتھ قرض واپسی کا کوئی پروگرام بنایا ہے تو ایوان کو اس سے آگاہ کیا جائے، دنیا بھر میں پہلے قرضہ واپسی کے پروگرام بنائے جاتے ہیں پھر نئے قرضے لئے جاتے ہیں، اگر ہم صرف سود ادا کرتے جائے اور قرض کی اصل رقم رقم واپس نہ کر سکے تو ہر سال بجٹ خسارہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کے پاس قرضوں کی واپسی کا کوئی لائحہ عمل ہے تو پارلیمنٹ کو آگاہ کرے، کیونکہ موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، ترقی کی شرح میں تیزی سے کمی جب کہ مہنگائی روز بروز بڑھ رہی ہے، حکومت ماضی کی حکومت کے ساتھ اپنا تقابلی جائزہ پیش کرے،

وزارت خزانہ نے اثاثہ جات ظاہر کرنے کے آرڈیننس سے فائدہ اٹھانے والوں کی تفصیلات ایوان میں پیش کردیں آرڈیننس سے 1لاکھ ،24ہزار 587 افراد نے فائدہ اٹھایا ایمنسٹی اسیکم سے حکومت کو ایک کھرب 23ارب سے زائد ریونیو ملا جب کہ سابقہ ایمنسٹی اسیکم سے 80ہزار افراد مستفید ہوئے تھے۔

Comments are closed.