وزیراعظم عمران خان کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایچ ای سی کو مالی اختیارات دینے کی ہدایت

اسلام آباد:  وزیراعظم عمران خان نے تعلیم کے بجٹ میں کمی کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ شعبہ تعلیم کا بجٹ بڑھ سکتا ہے کم نہیں ہوگا،حکومت تمام معاشی مشکلات کے باوجود ہائر ایجوکیشن مالی ضروریات کو پورا کرے گی۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے لئے مختص فنڈز کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لئے ایگزیکیٹو ڈائریکٹر ایچ ای سی کو وزارتوں کی طرز پر مالی معاملات کے اختیارات دینے کی ہدایت کی۔

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت ہائیر ایجوکیشن اور ایچ ای سی ریفارمز سے متعلق معاملات کا جائزہ لیا گیا، جس میں  اسد عمر،شفقت محمود، شہباز گل،عثمان ڈار، معید یوسف اور چئیرمین ایچ ای سی نے شرکت کی۔ چیئیرمین ایچ ای سی کی وزیراعظم کو اعلیٰ تعلیمی ریفارمز پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ جعلی سرگرمیوں میں ملوث تعلیمی اداروں کے دو سو سولہ کیمپسز کو بند کر دیا گیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ مجموعی طور پر تعلیم کا ترقیاتی بجٹ 35 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ 6 سے 7 ارب روپے نالج اکانومی پر بھی خرچ ہوں گے، موجودہ حکومت میں تعلیم کا ترقیاتی بجٹ 29 ارب روپے تک بڑھا دیا گیا، مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں تعلیم کا ترقیاتی بجٹ محض 14 ارب روپے تھا، بعض عناصرمنفی ایجنڈا پھیلارہے ہیں کہ کہ وفاق نے تعلیمی بجٹ کم کیا۔

اس موقع پروزیراعظم عمران خان نے کہا کہ تعلیم کا بجٹ بڑھایا تو سکتا ہے مگر کم نہیں ہو سکتا، حکومت تمام معاشی مشکلات کے باوجود ہائر ایجوکیشن مالی ضروریات کو پورا کرے گی۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے شعبے کے لئے مختص فنڈز کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے ایگزیکیٹو ڈائریکٹر ایچ ای سی کو وزارتوں کی طرز پر مالی معاملات کے اختیارات دینے کی ہدایت کی۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ نصاب کا تعین کرتے ہوئے نوجوان نسل کو  اسلامی و مشرقی اقدار معاشرتی تہذیب و تمدن، ورثے،صوفیا کرائم اورانکے فلسلفے کےبارےمیں آگاہی فراہم کرنےپرخصوصی توجہ دی جائے۔ ٹیکنالوجی کے موجودہ دور میں جہاں ہماری اقداراور تہذیب کو مغرب اور دیگر بیرونی کلچر سے سنگین خطرات درپیش ہیں وہاں اسلامی شعار اور صوفیاء کرام کے تعلیمات سے ناواقفیت سے معاشرے میں انتہاپسندی کو پروان چڑھنے میں مدد ملی ہے ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے نوجوان نسل کو اپنی تہذیب و تمدن، صوفیا کرام بالخصوص اقبال کے فلسفے سے آگاہی فراہم کریں۔

Comments are closed.