پاکستان میڈیکل کمیشن کےقیام اورپی ایم ڈی سی کی تحلیل کا صدارتی آرڈیننس کالعدم قرار

اسلام آباد: ہائی کورٹ نے پاکستان میڈیکل کمیشن (پی ایم سی) کے قیام اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کو تحلیل کرنے کا صدارتی آرڈیننس کالعدم قرار دے دیا۔پی ایم ڈی سی ملازمین کو بحال کردیا۔

پاکستان میڈیکل کمیشن آرڈیننس 2019 کے خلاف دائر درخواست کی سماعت ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی پرمشتمل ایک رکنی بینچ نے کی تھی، مذکورہ درخواست پرعدالت نے صدرمملکت، کابینہ ڈویژن، وزارت قانون اور وزارت صحت کے سیکریٹریز، اٹارنی جنرل اور نو تشکیل شدہ پاکستان میڈیکل کمیشن کے صدر کو نوٹسز جاری کیے گئے تھے۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ اپنا مؤقف بیان کرنے کا کوئی موقع دیے گئے بغیر پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے ملازمین کو برطرف کر دیا گیا۔ساتھ ہی اس میں ان خدشات کا اظہار بھی کیا گیا تھا کہ پاکستان میڈیکل کمیشن،برطرف کیے گئے ملازمین کی جگہ نئی بھرتیوں اور کنٹریکٹ بنیاد پر نوکریوں کا اشتہار دے سکتی ہے، جس سے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے ملازمین کی حق تلفی ہوگی۔

درخواست میں عدالت سے پی ایم سی کے قیام سے متعلق آرڈیننس کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی اور پی ایم ڈی سی کے ملازمین کو نو تشکیل کردہ کمیشن میں ملازمت جاری رکھنے کی اجازت دینے کی درخواست بھی کی گئی تھی۔

درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے آج اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ایم ڈی سی تحلیل کرنے کا صدارتی آرڈیننس کالعدم قرار دے دی،  اس کے ساتھ ہی عدالت نے پاکستان میڈیکل کمیشن کو ختم کرنے اور ملازمین کو بحال کرنے کا بھی مختصر حکم سنایا جبکہ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ صدر عارف علوی نے 20 اکتوبر کو پاکستان میڈیکل کمیشن (پی ایم سی) آرڈیننس نافذ کرتے ہوئے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو تحلیل کردیا تھا۔

Comments are closed.