پاکستان اور ترکی کا کے صدور کا امہ کو درپیش چیلنجزسے نمٹنے کیلئے مشترکہ کوششوں پراتفاق

اسلام آباد: پاکستان اور ترکی کے صدور نے اسلاموفوبیا سمیت امت کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے دونوں ممالک کے مل کر کام جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

ترک صدر رجب طیب اردوان پاکستانی ہم منصب ڈاکٹر عارف علوی سے ملاقات کے لیے ایوان صدر اسلام آباد پہنچے جہاں صدر مملکت نے معزز مہمان کا پرتپاک خیر مقدم کیا۔

ملاقات کے دوران ڈاکٹر عارف علوی نے دونوں ممالک کے مابین بہتر اور کثیرالجہتی تعلقات پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ سطح کے اسٹرٹیجک تعاون کونسل کے چھٹے اجلاس سے پاکستان اور ترکی کے درمیان برادرانہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے اور ان کو وسعت ملے گی۔

پاکستان اور ترکی کے صدور نے دوطرفہ سیاسی، معاشی، ثقافتی، دفاعی اور عوام کی سطح پر رابطوں سمیت تاریخی دوطرفہ تعلقات کی خصوصی اہمیت کو اجاگر کیا۔ صدر مملکت نے رجب طیب اردوان کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال سے آگاہ کیا اور مقبوضہ وادی کے بارے میں ان کے اصولی موقف پر شکریہ ادا کیا۔

صدر ڈاکٹر عارف علوی نے افغانستان میں قیام امن اور مفاہمت کے لیے پاکستان کی کوششوں پر روشنی ڈالی اور اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری کو افغانستان میں شورش کے بعد تعمیرنو میں اپنی مدد کو بڑھانا چاہیے۔دونوں صدور نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ پاکستان اور ترکی کو اسلاموفوبیا سمیت امت کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے مل کر کام کرنا جاری رکھنا چاہیے۔

دونوں ممالک کے صدور نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے بنیادی قومی مفاد کے امور پر باہمی تعاون جاری رکھیں گے۔ انہوں نے پاکستان اور ترکی کے مابین تعلقات کی بے پناہ صلاحیتوں کو مکمل طور پر سمجھنے اور اس کو ایک مضبوط اور متحرک تجارتی اور معاشی شراکت میں تبدیل کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

بعد ازاں صدر ڈاکٹر عارف علوی اور خاتون اول بیگم ثمینہ علوی نے ترک صدر رجب طیب اردوان، ان کی اہلیہ امینہ اردوان اور وفد کے اعزاز میں عشائیہ کا اہتمام کیا۔

ترک صدر کا پاکستان پہنچنے پر شاندار استقبال

قبل ازیں ترک صدر رجب طیب اردوان دو روزہ سرکاری دورے پر نورخان ایئربیس پہنچے تو،وزیراعظم عمران خان نے اعلیٰ حکومتی و عسکری شخصیات کے ہمراہ طیب اردوان اور ان کی اہلیہ کا پُرتپاک استقبال کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنی روایتی مہمان نوازی کا ایک مرتبہ پھر مظاہرہ کرتے ہوئے خود گاڑی ڈرائیو کی۔

وزیراعظم ہاؤس پہنچنے پر ترک صدر رجب طیب اردوان کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ پاک فوج کے چاق وچوبند دستے نے معزز مہمان کو سلامی دی۔ اس موقع پر دونوں ملکوں کے قومی ترانے بھی بجائے گئے۔ بعد ازاں وزیراعظم نے ترک صدر کا وفاقی کابینہ اراکین، مشیروں اور معاونین خصوصی سے تعارف کرایا۔

صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ ترک کابینہ ارکان، سینئر حکام اورکارپوریشنز کے سربراہان پرمشتمل وفد بھی دورہ پاکستان پر آیا ہے۔ ترک صدر کے دورے کے دوران اہم معاہدوں اور مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط بھی کیے جائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان اور ترک صدر مشترکہ پریس کانفرنس بھی کریں گے۔

ترک صدر کا پارلیممنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب

  ترک صدر رجب طیب اُردوان جمعہ کو دن 11 بجے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔ جس کے لیے تمام تر انتظامات مکمل ہو چکے ہیں۔ مشترکہ اجلاس میں شرکت کے لیے مہمانوں اور میڈیا کے نمائندوں کو خصوصی دعوت نامے جاری کیے گے ہیں۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں چاورں صوبائی وزرائے اعلیٰ،گورنرز، صدر، وزیراعظم اور سپیکر آزاد کشمیر کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ اجلاس میں غیر ملکی سفیر، مسلح افواج کے سربراہان کو بھی خصوصی دعوت نامے جاری کیے گئے ہیں۔ مشترکہ اجلاس میں چیف جسٹس آف پاکستان، چیف الیکشن کمشنر اور گورنر سٹیٹ کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔

Comments are closed.