کشمیر ترکی کیلئے وہی حیثیت رکھتا ہے جو پاکستان کیلئے ہے،ترک صدر طیب اردوان

اسلام آباد: ترک صدر رجب طیب اردوان نے کشمیر پر ایک مرتبہ پھر پاکستان کے موقف کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے لیے کشمیر کی درجہ وہی ہے جو چنا قلعے کی تھی۔ کشمیر ترکی کیلئے وہی حیثیت رکھتا ہے جو پاکستان کیلئے ہے۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ کشمیر بھی ترکی کیلئے وہی حیثیت رکھتا ہے جو پاکستان کیلئے رکھتا ہے،کشمیری بھائیوں کو بھارت کے حالیہ غاصبانہ اقدامات سے بہت نقصان ہوا ہے، ترکی مسئلہ کشمیر کو امن اور انصاف کے ذریعے حل کرنے کے فیصلے پر قائم ہے۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے ترک صدر نے کہا کہ ترکی پاکستان کا بھرپور ساتھ دینے کا سلسلہ جاری رکھے گا، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) میں دباؤ کے باوجود پاکستان کو بھرپور تعاون اور حمایت کا یقین دلاتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خطے میں دہشت گردی کو ختم کرنے کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، ترکی کے سرمایہ کاروں کے بڑے گروپ کے ساتھ یہاں آیا ہوں۔

رجب طیب اردوان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانیوں سے محبت نہیں کریں گے تو اور کس سے کریں گے، انہوں نے اپنے پیٹ کاٹ کرکے ہماری مدد کی جسے کبھی نہیں بھول سکتے، ہم ترکی کیلئے سجدے میں دعائیں کرنے والوں کو کیسے فراموش کر سکتے ہیں، پاکستان کے ساتھ تعلقات ہمیشہ قائم رہیں گے، ہمارا پاکستان کے ساتھ دل کا رشتہ ہے۔

ترک صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان کا دکھ ہمارا دکھ ہے اور اس کی کامیابی ہماری کامیابی ہے، ترک تحریک آزادی کی حمایت میں پاکستانی خواتین نے اپنے زیور بیچ دیے، ہماری دوستی مفاد پر نہیں عشق و محبت پر مبنی ہے، میں نے پاکستان میں کبھی بھی خود کو اجنبی محسوس نہیں کیا۔ پاکستان میرے لیے دوسرے گھر کا درجہ رکھتا ہے

ان کاکہنا تھا کہ پاکستانی عوام کو عزت و احترام سے سلام پیش کرتا ہوں، ان کے خلوص اور مہمان نوازی پر شکرگزار ہوں، آج پاکستان اور ترکی کے تعلقات سب کیلئے قابل رشک ہیں۔ اپنے خطاب کے دوران ترک صدر نے شاعرہ مشرق علامہ اقبال اور حفیظ جالندھری کے اشعار بھی پڑھے۔

واضح رہے کہ ترک صدر رجب طیب اردوان کا یہ پاکستان کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے چوتھا خطاب ہے۔ اس سے پہلے وہ بطور وزیراعظم دوبار اور بطورصدر ایک بار پاکستان کی پارلیمنٹ سے خطاب کرچکے ہیں۔

ترک صدر سے قبل اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ مسلم  آبادیوں کو اسلامو فوبیہ جیسی حقارت آمیزمذہبی منافرت کا سامنا ہے، بھارت نے جس انداز سے مقبوضہ کشمیر کو اپنی نوآبادی میں تبدیل کیا، مہذب دنیا میں اِس کی مثال نہیں ملتی، جس مردِ مجاہد نے بے باکی سے کشمیریوں کی ترجمانی کی وہ ترک صدر کی ذات گرامی ہے، دو ٹوک موقف پریہ ایوان، اہلِ کشمیر اوراہل پاکستان آپ کو اور آپ کی قوم کو سلام پیش کرتے ہیں۔

قبل ازیں ترک صدر رجب طیب اردوان پارلیمنٹ پہنچے تو وزیراعظم عمران خان نے ان کا ریڈ کارپٹ استقبال کیا، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے۔ اس موقع پر پارلیمنٹ کو پاکستان اور ترکی کے جھنڈوں سے سجایا گیا جبکہ گیلریز کو گلدستوں سے مزین کیا گیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان، مسلح افواج کے سربراہان، غیر ملکی سفراء، حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکان قومی اسمبلی، سینیٹرز، وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کی۔

Comments are closed.