امریکی سینیٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر حملے کا اختیارات محدود کردیا

واشنگٹن: امریکی سینیٹ نے ایران پر فوجی کارروائی کے حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اختیارات کو محدود کردیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ میں ایران پر فوجی کارروائیوں کو کانگریس کی منظوری سے مشروط کرنے کی قرار داد پیش کی گئی،جس میں ایران پر فوجی حملے کے امریکی صدر کے اختیار کو کم کرنے کا مطالبہ کیا گیا، رائے شماری میں صدر ٹرمپ کی جماعت ری پبلکن پارٹی کے 8 ارکان سمیت 55 اراکین امریکی سینیٹرز نے قرارداد کے حق میں جبکہ 45 نے مخالفت میں ووٹ دیئے۔

امریکی سینیٹ سے منظور ہونے والی قرارداد کے تحت ایران پر کسی قسم کی فوجی کارروائی سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کانگریس سے اجازت لینا ہوگی تاہم ابھی اس قرارداد کو توثیق کے لیے صدر ٹرمپ کے پاس ہی جاناہے جہاں عین ممکن ہے کہ صدر ٹرمپ قرارداد کو اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ویٹو کر دیں۔

صدر ٹرمپ اگر اس قرارداد کی توثیق بھی کردیتے ہیں تب بھی ہنگامی صورتحال اور ناگزیر حالات میں صدر ٹرمپ فوری فیصلہ کرنے کا آئینی حق محفوظ رکھتے ہیں۔ سینیٹ میں یہ قرارداد امریکی حملوں کے جواب میں ایرانی کارروائی کے نتیجے میں 100 سے زائد امریکی اہلکاروں کو دماغی چوٹیں آنے کے بعد پیش کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ امریکا نے گزشتہ ماہ ایک راکٹ حملے میں ایران کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کو ہلاک کردیا تھا جس کے جواب میں ایران نے بھی عراق میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا تھا۔

Comments are closed.