نئی دہلی میں مسلم کش فسادات کے دوران 13 افراد ہلاک، 200 کے قریب زخمی

مانیٹرنگ ڈیسک

نئی دہلی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورے کے موقع پر بھارتی پولیس کی سرپرستی میں مسلم کش فسادات پھوٹ پڑے ہیں۔انتہا پسند ہندوؤں کے حملوں کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک جب کہ 200 کے قریب زخمی ہو گئے۔

بھارتی گجرات کے قصاب مودی نے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں بھی مذہبی فساد کی آگ لگا دی  ہے۔ پولیس کی سرپرستی میں انتہاء پسند بی جے پی کے رہنماؤں اور بلوائیوں نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دہلی میں متنازع شہریت قانون کے خلاف پرامن دھرنے پر بیٹھے مظاہرین پر دھاوا بولا۔

دہلی میں جگہ جگہ اور گلی گلی ہنگامے چھڑ گئے۔ لوگوں کو روک روک کر ان کا مذہب پوچھا جانے لگا۔ بھارتی پولیس کی سرپرستی میں مسلمان مظاہرین پر بدترین تشدد کیا گیا۔ انتہا پسند ہندوؤں نے دہلی کے علاقے اشوک نگر کی مسجد پر حملہ کر کے مسجد کی بے حرمتی کی، مینار سے اسپیکر اتار کر پھینک دیئے اور وہاں پر بھارتی جھنڈے لہرا دیئے۔

پرتشدد واقعات اور ہنگاموں میں 13 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے جبکہ دکانوں، مکانات سمیت سینکڑوں املاک کو نذر آتش کر دیا گیا۔ مختلف واقعات میں اب تک 200 کے قریب افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جو مقامی اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔

ان واقعات کی درجنوں ویڈیوز سوشل میڈیا پر سامنے آئیں جن میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بھارتی پولیس کے سامنے چند لاشیں پڑی ہیں جبکہ پولیس اہلکار دم توڑتے مسلم نوجوانوں کو مارتے ہوئے ان سے جے شری رام کے نعرے لگانے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

شمال مشرقی دہلی کے رہائشی اور سماجی کارکن اویس سلطان خان اور جنید کا کہنا تھا کہ سیلم پور، مصطفی آباد، بابرپور، جعفرآباد، شاستری پارک، نور الہی، کردمپوری، کبیر نگر، موجپور اور شمال مشرقی دہلی کے مختلف علاقوں میں حالات کشیدہ ہیں۔ موج پور، جعفرآباد، چاند باغ، کراول نگر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ دائیں بازو کے مسلح غنڈے کھلے عام گھوم رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ رات تین بجے برہمپوری کی اکھاڑے والی گلی میں فائرنگ کی آواز سنی گئی اور دکانیں لوٹی گئیں۔ جب تک کہ وہاں پولیس تعینات نہیں کی جاتی ہے اور کرفیو نافذ نہیں کیا جاتا ہے حالات کو قابو میں کرنا بہت مشکل ہوگا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق مسلم مخالف فسادات کے بعد بھارت بھر میں مسلمان آبادی خوفزدہ ہیں، دُرگارپوری چوک پر دکانیں لوٹ لی گئیں عوام پر تشدد کیاگیا، خاتون صحافی سمیت تین بھارتی صحافیوں پر انتہا پسندوں کے ہجوم نے تشدد کیا۔

Comments are closed.