ایل او سی جارحیت پر بھارتی سفارتکار کی دفتر خارجہ طلبی، احتجاجی مراسلہ تھمایا گیا

اسلام آباد: لائن آف کنٹرول پر جارحیت، سیز فائرمعاہدے کی خلاف ورزی اور سول آبادی کو نشانہ بنانے پر پاکستان نے سخت احتجاج کیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی کے مطابق بھارتی فورسز کی جانب سے کنٹرول لائن کی خلاف ورزی پر اسلام آباد میں بھارت کے سینئر سفارت کار کو دفتر خارجہ طلب کیا اور اس حوالے سے نہ صرف احتجاج کیا گیا انہیں احتجاجی مراسلہ بھی تھمایا گیا۔

ترجمان دفترخارجہ کے مطابق مراسلہ میں کہا گیا کہ بھارت کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزی بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، رواں سال بھارت کی جانب سے اب تک سیز فائر کی 384 خلاف ورزیاں کی جا چکی ہیں، بھارت کنٹرول لائن پر کشیدگی بڑھا کر مقبوضہ کشمیرمیں مظالم سے پردہ پوشی نہیں کرسکتا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ کنٹرول لائن کے ساتھ بھارتی افواج مسلسل شہری آبادی کو مارٹر سے نشانہ بنارہی ہیں، بھارتی فورسز نے 25 فروری کو نیزہ پیر سیکٹر میں بلااشتعال فائرنگ کی، بھارتی فائرنگ سے گاؤں منڈھار کا 40 سالہ محمد بشیر زخمی ہوگیا۔

پاکستان کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ بھارت اپنی فوج کو 2003 کے سیز فائرمعاہدے کی پاسداری کا پابند بنائے اور فائرنگ کے واقعات کی تحقیقات کرے۔

Comments are closed.