سُرخ ہونٹ۔۔۔ لِپ اِسٹک کی صدیوں پرانی تاریخ اور دلچسپ حقائق

عابدہ ممتاز

دنیا کے مختلف ممالک میں خواتین کا ہونٹوں پر سرخ لِپ اسٹک لگانا عام روایت ہے، خوبصورت نظر آنے کیلئے استعمال ہونے والا یہ ہتھیار نیا نہیں، انسانی تہذیب کے ارتقاء کے ساتھ ہی اس کی ایجاد ہو گئی تھی اور مختلف ادوار میں کئی چیزوں کی علامت سمجھا جاتا رہاہے۔

قدیم مصری تہذیب کے اوائل میں حشرات، مچھلی کے چرنے (کھال)، شہد کے خالی چھتوں اور مخصوص پتھر کو ملا کر تیار ہونے والی گہرے سرخ رنگ کے محلول کو ہونٹوں پر لگایا جاتا تھا۔ مصر میں مرد اور خواتین کے ہونٹ سرخ ہونا اشرافیہ کی نشانی سمجھا جاتا تھا۔

اسی طرح قدیم یونانی تہذیب میں بھی سرخ لپ اسٹک لگائی جاتی تھی لیکن طوائفوں کے لازمی تھا کہ وہ عوامی اجتماعات میں سرخی لگا کر جائیں گی تاکہ مرد طوائفوں اور عام خواتین کے درمیان فرق کر سکیں۔

یورپ میں کئی صدیوں تک سرخ لِپ اِسٹک بدنام رہی، برطانیہ میں لپ اسٹک لگانے والے کو نہ صرف معیوب سمجھا جاتا تھا بلکہ اسے شیطان کا اوتار تک کہا جاتا تھا۔ وقت نے کروٹ لی تو سب سے پہلے برطانوی ملکہ الزبیتھ اول نے سرخ رنگ کو پسندیدہ قرار دیا اور یوں سرخ لپ اسٹک ان کے راج میں مشہور ہوئی۔

مورخین کے مطابق برطانیہ کی ملکہ الزبتھ کا ماننا تھا کہ سرخ رنگ کی لپ اسٹک انہیں شفاء اور تحفظ کا احساس دلاتی ہے لیکن بعد میں ملکہ وکٹوریہ نے سرخ رنگ کی لپ اسٹک کو نامناسب اورغیر مہذب قرار دیا۔برطانیہ میں 9 ویں صدی کے اوائل میں ووٹ کا حق لینے کے لئے سفراجیٹ موومنٹ شروع ہوئی تواس وقت سرخ لپ اسٹک لگانے والی خواتین کو بغاوت کی علامت قرار دیا جاتا تھا۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران لپ اسٹک سے متعلق رویے میں بدلاو آیا اور اتحادی خواتین کی جانب سے سرخ لپ اسٹک کو محب وطن ہونے کی نشانی سمجھا جانے لگا لیکن ہٹلر کی جانب سے اسے نفرت انگیز اور ناپسندیدہ قرار دیا گیا۔

جنگ عظیم کے بعد سرخ لپ اسٹک کو ہالی ووڈ میں شہرت حاصل ملی۔ سپر اسٹارز میرلین سے لے کر الزبیتھ ٹیلرتک کئی اداکاراوں نے لپ اسٹک کو آٹو گراف کے طور پر متعارف کرایا اور اپنے پرستاروں کو قلم کے بجائے لپ اسٹک لگے ہونٹوں سے کاغذ کو چوم کر آٹو گراف دیتیں اور ہونٹوں کا نشان ہی آٹوگراف ہوتا۔

ایشیاء میں ہونٹوں کی خوبصورتی اور حفاظت کے لئے سب سے پہلے چین نے لپ بام ایجاد کیا جس میں میں سرخ رنگ سب سے غالب تھا۔ تاریخ سے قطع نظر آج لپ اسٹک کے ہزاروں شیڈز دستیاب ہیں جو آپ کے موڈ اور احساسات کی بھرپور ترجمانی کرتے ہیں۔

بشکریہ۔ سی این این

Comments are closed.