مقبوضہ کشمیر میں جبری طور پ نظر بند سابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ 8 ماہ بعد رہا

سری نگر: غاصب بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی  گزشتہ برس خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے جبری طور پر نظر بند کیئے گئے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کو 8 ماہ بعد رہا کردیا گیا۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ اور سیاستدان عمرعبداللہ کو 8 ماہ کی نظر بندی کے بعد رہا کر دیا گیا۔ عمرعبداللہ کو دیگر سیاسی رہنماؤں کے ہمراہ نام نہاد 5 اگست 2019 کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظر بند کیا گیا تھا۔

رہائی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرنے ہوئے عمر عبداللہ نے مطالبہ کہ بھارتی جیلوں میں غیر آئینی طور پر قید دیگر سیاسی رہنماؤں اور کارکنان کو بھی رہا کیا جائے اور آرٹیکل 370 کی منسوخی کو واپس لے کر کشمیر کی سابق خصوصی حیثیت کو بحال کیا جائے۔

سابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ کے والد فارق عبداللہ کو بھی چند روز قبل رہا کردیاگیا تھا جس کے بعد عمرعبداللہ کی رہائی کی بھی امید کی جارہی تھی۔ اب بھی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی سمیت کئی سیاسی رہنما جبری طورپر نظر بند جب کہ حریت رہنما جیلوں میں قید ہیں۔

خیال رہے کہ قابض بھارتی حکومت نے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر کو آئین میں حاصل خصوصی حیثیت کو ختم کر کے وادی کو وفاق کے ماتحت دو حصوں میں تقسیم کردیا تھا اور شدید عوامی ردعمل کے پیش نظر حریت رہنماؤں سمیت اپنے ہی نور نظر قیادت فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو بھی گھروں میں نظر بند کردیا تھا۔

Comments are closed.