ڈالر کی اونچی اڑان۔۔۔ پاکستانی تاریخ کی بلند ترین سطح 167.45 روپے پر پہنچ گیا

اسلام آباد: کورونا وائرس کے باعث پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مندی کے بعد پاکستانی روپے کی بے قدری جاری ہے، امریکی ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح 167.45 روپے تک پہنچ گیا جس کے باعث بیرونی قرضوں میں اربوں روپے کا اضافہ ہو گیا۔

روپے کی قدر میں مسلسل کمی اور ڈالر کی اونچی اڑان جاری ہے۔ آج انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر مزید ساڑھے 5.85 روپے مہنگا ہو کرملکی تاریخ کی بلندترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ انٹربینک میں ڈالر 167.45 روپے پر پہنچ گیا۔ ڈالر آج 9 ماہ بعد اتنی مہنگی سطح پر ٹریڈ ہوا جب کہ انٹر بینک میں امریکی کرنسی کی قدر میں 3 روز کے دوران 8 روپے 45 پیسے کا اضافہ ہوچکا ہے۔

ڈالر کی قدر میں بے تحاشا اضافے کے باعث ملک پر قرضوں کے بوجھ میں 600 ارب روپے کا اضافہ ہو گیا ہے۔ غیرملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے گھریلو قرضوں اور اسٹاک مارکیٹوں سے قلیل مدتی سرمایہ کاری نکالنے سے روپے کی قدر میں گراوٹ آئی۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق حکومت کی جانب سے شرح سود میں ڈیڑھ فیصد کمی کے باعث سرمایہ کار پاکستان سے اپنا پیسہ نکال رہے ہیں جو ڈالر مہنگا ہونے کا سبب بن رہا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے گورنر رضا باقر نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث غیرملکی سرمایہ کار نقد رقم کو ہاتھ میں رکھنے کے لئے پاکستان سمیت دنیا بھر سے اپنی سرمایہ کاری واپس نکال رہے ہیں۔

Comments are closed.