کرائسٹ چرچ مساجد پرحملہ کرنے والے دہشت گرد کا51 افرادکے قتل کا اعتراف

ویلنگٹن: نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں مساجد میں فائرنگ کرنے والے دہشت گرد برینٹن ٹیرنٹ نے 51 افراد کے قتل، 40 افراد کے اقدامِ قتل اور دہشت گردی کے الزامات کا اعتراف کر لیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق برینٹن ٹیرنٹ نے ماضی میں سانحہ کرائسٹ چرچ میں بے گناہوں کے قتل اور دہشت گردی کے الزامات کو مسترد کردیا تھا جس کے بعد رواں سال جون میں ان کے خلاف مقدمہ چلنا تھا، تاہم کیس کی دوبارہ سماعت سے قبل ہی اس نے اپنے تمام جرائم کا اعتراف کرلیا۔

برینٹن ٹیرنٹ نے اپنے وکیل کی توسط سے آکلینڈ کی جیل سے ویڈیو کال کے ذریعے اپنے تمام جرائم کا اعتراف کیا۔اس دوران جج جسٹس کیمرون مینڈر کا کہنا تھا کہ اس بات کا دکھ ہے کہ کورونا وائرس کے باعث اس سانحے کا شکار ہونے والے ان خاندانوں کو ایسے وقت میں عدالت آنے کا موقع نہیں ملا جب ملزم نے اپنے جرم کا اعتراف کیا۔

جج کے مطابق دہشت گرد یکم مئی تک زیرحراست رہے گا جب کہ اس پر عائد 92 جرائم کی سزا اسے آگے کی تاریخ میں سنائی جائے گی۔ عدالتی احکامات کے بعد دہشت گرد کا دماغی معائنہ بھی کیا گیا تھا اور گزشتہ برس مئی میں ڈاکٹرز نے عدالت کو بتایا تھا کہ برینٹن ٹیرنٹ ذہنی طور پر بالکل درست ہے اور وہ اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات کا دفاع کرنے کے قابل ہے۔

Comments are closed.