عالمی وباء کیخلاف جنگ: وزیراعظم کا ریلیف فنڈ، کورونا ٹائیگر فورس کے قیام کا اعلان

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے عالمی وباء کورونا کے خلاف جنگ کے لیے ریلیف فنڈ اور کورونا وائرس ریلیف ٹائیگر فورس کے قیام کا اعلان کر دیا، انہوں نے کہا ہے کہ ایمان کی طاقت اور نوجوانوں کی مدد سے کورونا وائرس کے خلاف جنگ جیتیں گے۔

وزیراعظم نے قوم سے خطاب میں کہا کہ کورونا وائرس ریلیف ٹائیگر فورس فوج اور انتطامیہ کے ساتھ مل کر وبا کے پھیلاؤ کی صورت میں مقابلہ کرے گی۔ جن علاقوں میں لاک ڈاؤن کرنا پڑے گا تو یہ فورس خوراک اور آگاہی کی فراہمی میں مدد فراہم کرے گی۔ ینگ ڈاکٹرز، نرسز، طالب علم، انجینیئر اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان اس فورس میں شامل ہوں گے۔ حالات کے مطابق انھیں ہدایات جاری کی جاتی رہیں گی۔

عمران خان نے  کہا کہ وزیراعظم کورونا ریلیف اکاؤنٹ میں جو بھی رقم جمع کروائے گا اس سے کوئی سوال نہیں ہوگا اور کورونا ریلیف فنڈ میں جمع کروائی گئی رقم ظاہر کرکے ٹیکس میں رعایت حاصل کی جاسکے گی۔ اس فنڈز میں آںے والی رقوم ضرورت پڑنے پر احساس پروگرام میں رجسٹرڈ 1 کروڑو 20 لاکھ افراد کے لیے کی امداد کے لیے استعمال کی جائے گی۔

وزیراعظم نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ کورونا ریلیف کیلئے قائم اس فنڈ کا آڈٹ ہوگا اور تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔ احساس پروگرام کے فیس بک پیچ کے ذریعے مخیر اور مستحق حضرات کے رابطے کروائے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ وباؤ کے پھیلاؤ کی تیزی کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جاسکتا وزیراعظم ہاؤس میں ایک ٹیم اس پر کام کررہی ہے، پانچ دن سے ایک ہفتے کے دوران  وبا کے پھیلاؤ کی  رفتار کے بارے میں اندازہ لگا لیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ کا کہنا تھا کہ ملکی تاریخ کے سب سے بڑے 8 ارب ڈالر کے ریلیف پیکج کا اعلان کیا۔  جب کہ امریکا نے 2000ارب ڈالر کا پیکج دیا۔ اس موازنے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ  ہمارے پاس وسائل تو نہیں۔ ہمارے پاس سب سے بڑی طاقت ایمان اور دوسری بڑی طاقت نوجوان آبادی ہے۔ کورونا کی جنگ جیتنے کے لیے ہم نے ان دوطاقتوں کا استعمال کرنا ہے۔

قوم سے خطاب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جو کاروباری ادارے لوگوں کو بے روزگار ہونے سے بچانے کے لیے ملازمتیں ختم نہیں کریں گے انھیں اسٹیٹ بینک کی جانب سے آسان شرائط پر قرض فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا کورونا کے خلاف لڑ رہی ہے۔ سب سے کامیاب چین رہا۔ یہ جنگ ہمیں حکمت سے لڑنی ہے اور اپنے ملک کےحالات دیکھنے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ عالمی وباء کی روک تھام کے لیے ہمیں پڑوسی ملک بھارت کے حالات دیکھنے چاہییں جہاں بغیر سوچے سمجھے لاک ڈاؤن کردینے کی وجہ سے  وزیراعظم کو قوم سے معافی مانگنا پڑی۔ اب انھیں یہ  مسئلہ درپیش ہے کہ اگر لاک ڈاؤن ہٹاتے ہیں تو وائرس پھیلے گا اور اگر جاری رکھیں گے تو لوگ بھوک سے مرجائیں گے، وہاں  لوگ ابھی سے سڑکوں پر آگئے ہیں۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ ملک میں اناج کی کمی نہیں جو لوگ ذخیرہ اندوزی کررہے ہیں ان کی وجہ سے ملک میں لوگ بھوک سے مریں گے۔ ایسے عناصر کسی بھی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

Comments are closed.