کورونا بحران: حکومتی اقدامات اور عوامی ذمہ داری

تحریر: محمد عباس

پاکستان کو روز اول سے ہی کسی نہ کسی چیلنج کا سامنا رہاہے، ان میں کرپشن، دہشت گردی، انتہاء پسندی، سیاسی انتشار کے ساتھ ساتھ قدرتی آفات کے باعث پیدا ہونے والے چیلنجز شامل ہیں۔ ابھی ملک میں دہشت گردی کے عفریت پر قابو پایا ہی گیا تھا اور ڈگمگاتی معیشت کو سہارا دے رہے تھے کہ ایک نئے عالمی وباء کا سامنا کرنا پڑا۔

 ملک بھر میں کورونا وائرس کے کیسز سامنے آنے اور اس وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ روکنے کے لئے وفاقی و صوبائی حکومتوں نے لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا۔ جس سے ملک بھر میں معاشی سرگرمیاں معطل، کاروبار ٹھپ ہوکر کر رہ گئے اور دیہاڑی دار طبقہ سمیت ملازمت پیشہ افراد بھی گھروں میں بیٹھ گئے۔ نقل و حرکت پر قدغنیں لگ گئیں اور پبلک ٹرانسپورٹ مکمل طور پر بند کردی گئیں۔

صدیوں سے معاشرتی و سماجی رشتوں میں بندھے ہوئے پاکستانی معاشرے کے لوگوں پر اچانک تنہائی اختیار کرنے کا اثر تو ضرور ہوگا لیکن اس کے ساتھ اس معاشرے پر خداوند کریم کا خاص کرم یہ بھی ہے کہ یہ لوگ اعصابی و ذہنی طور پر مضبوط ترین لوگ ہیں۔

قطع نظر اس کے ایک طرف ذریعہ معاش بند ہونے تو دوسری طرف خوراک کیلئے وافر و مناسب راشن دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے شہریوں کو ذہنی تناؤ و پریشانی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ جس کا اشارہ وزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس سے متعلق 17 مارچ کو قوم سے اپنے پہلے خطاب میں بھی کیا تھا، وزیراعظم کے بقول”پاکستان کی معاشی صورتحال امریکا و یورپ کی طرح نہیں، یہاں غربت ہے اور 25 فیصد لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں”۔ جبکہ انکا مزید کہنا تھا کہ "قومی معیشت ایک مشکل دور کے بعد دوبارہ بحال ہورہی ہے”۔

ورلڈ بینک کی حالیہ رپورٹ نے بھی اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے حالات تباہ کن ثابت ہوں گے، خطے میں بھوک و افلاس بڑھے گی جبکہ اس خطے کو گزشتہ 40 سال سے بھی زیادہ بدترین معاشی حالات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

قومی معیشت کی بربادی اور بھوک کے باعث اموات ہونے سے قبل ہی وزیراعظم عمران خان نے جہاں زراعت کے شعبے کو کھلا رکھا تھا وہی کنسٹرکشن کے شعبے کو بھی بحال کیا، جس کا اعلان انہوں نے 4 اپریل کو اپنے ٹویٹ کے ذریعے کیا۔ لیکن ملکی معیشت کا دارومدار صرف زراعت و کنسٹرکشن پر نہیں بلکہ اسکی مثال آٹے میں نمک کے برابر کی سی ہے۔

کورونا کیسز سامنے آنے بعد سیل کئے گئے علاقوں کے عوام کو خوراک فراہمی اور سماجی فاصلے یقینی بنانے کی آگاہی کیلئے 30 مارچ کو وزیراعظم نے ٹائیگر فورس قائم کرنے کا اعلان کیا جب کہ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کورونا ریلیف فنڈ کے نام سے نیشنل بینک آف پاکستان میں الاؤنٹ کھولنے کا فیصلہ بھی کیا جس میں بیرون ملک پاکستانی اور صاحب استطاعت افراد رقم جمع کرسکیں گے، جس سے کورونا کیخلاف جنگ لڑی جا سکے گی۔

جیسا کہ بیان کیا جاچکا ہے کہ جب قومی معیشت لنگڑا رہی ہے، بھوک اور غربت کا طوفان خدانخواستہ امڈنے کو ہے، اس کے باوجود اگر حکومت نے لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے تو اس پر عملدارآمد سو فیصد یقینی بنانا اصل کامیابی ہوگی۔ بصورت دیگر یہ محض معیشت کی بربادی ثابت ہوگی اور اس سے مشکلات حل نہیں بلکہ ان میں مزید اضافہ ہوگا۔

جیسا کہ ہم دیکھ چکے جب تفتان بارڈر پر زائرین کو نہ روکا گیا اور پھر قرنطینہ مراکز میں بھی ایران سے آنے والے زائرین نے بھاگنے کی کوشش کیں۔ اور اس سے بڑھ کر جب کورونا حملہ آور ہی تھا تو تبلیغی اجتماع منعقد کروانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ خیر یہ تو بڑی باتیں ہیں عوامی حلقوں میں اب تک کورونا کو محض معمولی اور غیر اسلامی وائرس گردانا جارہا ہے۔ ہاتھ نہ ملانے اور بغل گیر نہ ہونے کو تاحال لوگ کافروں سے جوڑنے کی کوشش کررہے ہیں۔

 اگر کسی شخص میں کورونا وائرس کی تشخیص ہو بھی جائے تو اس کے خاندان والے بتانے سے کتراتے ہیں جب کہ اس کے کانٹیکس بھی خفیہ رکھے جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ وزارت پیٹرولیم میں پیش آیا۔ جہاں ایک ڈپٹی ڈاریکٹر کے عہدے پر براجمان شخص میں گزشتہ ماہ کے اواخر میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی لیکن بروقت قرنطینہ نہ جانے سے یہ وائرس انکے خاندان کے مزید 6 افراد میں پھیل گیا۔

بات صرف یہاں ہی ختم نہیں ہوئی جب تک اس موصوف میں کورونا وائرس کی علامات واضح طور پر سامنے آئیں وہ اسلام آباد ریڈ زون میں واقع پیٹرولیم ہاؤس اپنے دفتر بھی باقاعدگی کے ساتھ آتا جاتا رہا لیکن دفتر میں کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دی۔ متعلقہ سرکاری افسر کے کورونا سے صحت یاب ہونے کے بعد اعلیٰ حکام کو ہوش آیا اور وزارت کی عمارت کو سیل کر کے جراثیم کش سپرے کرانے کا فیصلہ کیا گیا اور متعلقہ عمارت کے کچھ حصوں کو سیل کردیا ہے۔

شہروں میں لاک ڈاؤن پر متعلقہ انتظامیہ کسی نہ کسی حد تک عملدرآمد کرانے پر کامیاب رہی ہے لیکن دیہاتوں میں اب بھی بدستور عوامی اجتماعات جیسا کہ باجماعت نماز، سماجی میل جول، نماز جنازہ، جمعہ کے اجتماعات اور  کھیل کود جیسی تمام سرگرمیاں جاری ہیں۔ دیہی علاقوں کی بات تو کجا گزشتہ جمعہ کو کراچی کے علاقے  اورنگی ٹاؤن کی ایک مسجد میں پابندی کے باوجود جمعہ کے اجتماع کیلئے لوگ اکٹھے ہوئے۔ روکنے پر انہوں نے  پولیس پر پتھراؤ کیا جس میں ایس ایچ او شرافت خان زخمی بھی ہوئی۔

سرکاری اندازے کے مطابق اپریل کے آخر تک کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 50 ہزار تک پہنچ سکتی ہے، اگر یہ مہلک وائرس دیہی علاقوں تک پہنچ گیا تو پھر نہ صرف اس کی روک تھام کے لئے اٹھائے گئے ماضی کے اقدامات بے سود ہوں گے بلکہ اسے قابو میں لانا کسی کے بس میں نہیں رہے گا۔ لہٰذا ہر ایک کو ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے حکومتی ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا، کیونکہ نظر نہ آنے والے اس دشمن کو ایک ذمہ دار قوم ہی شکست دے سکتی ہے،جس کا عملی مظاہرہ چینی حکومت اور عوام نے کر کے دکھایا ہے۔

Comments are closed.