دنیا پر چھائے بارسلونا کے پاکستانی صحافی

دنیا بھر کی طرح بارسلونا میں بھی صحافت بہت بدنام ہے، اس پیشے سے وابستہ افراد کو عوام کے تندوتیز جملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، فیک نیوز اورسیٹھ کلچرکے باعث موجودہ دور کا صحافی بدترین مشکلات کا شکار نظر آتا ہے مگر کورونا کرائسز کے باعث جہاں پوری دنیا کے صحافیوں نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر ہمیں باخبر رکھا وہیں بارسلونا کے پاکستانی نژاد صحافی بھی سپین، یورپ اور پاکستانی چینلز کی سکرینوں پر چھائے نظر آئے۔ لندن، نیویارک کے ساتھ بارسلونا، تمام بڑے چینلز کی ہیڈ لائنز میں شامل رہا۔

سب سے پہلے میں ذکر کروں گا جرمن نشریاتی ادارے دوئچے ویلے (ڈی ڈبلیو) کے بارسلونا میں نمائندہ حافظ احمد کا جنہوں نے بارسلونا کے ٹیکسی سیکٹر کی خدمات کو پوری دنیا میں متعارف کروایا اور ان کی رپورٹس کو بنیاد بنا کر پاکستانی اور عالمی میڈِیا نے پاکستانیوں کے اس غیرمعمولی اقدام کی زبردست انداز میں سراہا۔ یہاں تک کہ پاکستان میں کرنٹ افیئرز کے مقبول ترین پروگرام ‘آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ’ میں وہ پرائم ٹائم میں سامنے آئے۔

 اگر میں پاکستان کے دیگر بڑے چینلز کا ذکر کروں تو سماء نیوز کے ظفر الیاس قریشی، 92 نیوز کے شاہد احمد، ہم نیوز کی کرن خان، دنیا نیوز کے ڈاکٹر قمر فاروق اور جیو نیوز کے جواد چیمہ بھی تقریبا روزانہ کی بنیاد پر پاکستانی چینلز کے نیوز بلیٹنز کا حصہ بنتے رہے اور ان خبروں کو دیکھ کر پاکستان سے رشتہ دار، دوست احباب پریشان ہو کر کال کرکے ‘سب خیر اے’ کی رپورٹ لیتے۔

اگر مقامی صحافیوں کی بات کروں اور اس میں پرنٹ میڈیا کا ذکر کیا جائے تو سپین میں پاکستانی بابائے صحافت جناب جاوید مغل صاحب کی دہائیوں پرانے اخبار ہم وطن نے ہم وطنوں کو اپڈیٹ کیے رکھا۔  اسی طرح منجھے ہوئے صحافی اور سہرا میگزین کے ایڈیٹر جناب شاہین ملک بھی عرصہ دراز سے میدان میں ہیں۔

اگر جدت پسند صحافت کی بات کی جائے تو یوٹیوب کے بے تاج بادشاہ پروفیشنل جرنلسٹ جناب مرزا ندیم بیگ، طارق رفیق بھٹی اور نوجوان صحافی وسیم رزاق کا ذکر ضرور کیا جائے گا۔ بالخصوص مرزا ندیم بیگ صاحب ہر روز انتہائی محنت کے ساتھ عوام الناس کے لیے انتہائی محنت کے ساتھ مفید کانٹینکٹ لے کر حاضر ہوتے ہِیں۔ ہمارے بڑے پیارے دوست طارق بھٹی صاحب بھی پاکستان مِیں بیٹھ کر بھرپور کوریج کر رہے ہیں اور انکی سب سے بڑی کوالٹی ہے کہ وہ سوال کرنے سے نہیں ڈرتے۔  جبکہ نوجوان پروفیشنل جرنلسٹ وسیم رزاق  بھی منفرد اور روز مرہ کی زندگی میں فائدہ مند موضوع لے کر حاضر ہوتے ہیں۔

اگر ان لائن اخبارات کی بات کی جائے تو ڈاکٹر قمر فاروق، ممتاز منیر سہوترا اور نوجوان صحافی رضوان کاظمی بھی اپنے اپنے پلیٹ فارم سے لمحہ بہ لمحہ سب کو اپڈیٹ رکھ رہے ہیں، اس کے علاوہ، آج کل پاکستان میں مقیم،  جنگ گروپ کے معروف کالم نگار اور صحافی بڑے بھائی شفقت علی رضا کا بھی ضرور ذکر کروں گا جو اپنے زور قلم سے اپنے ادارے کے میگزین میں سپین اور باقی دنیا میں مقیم پاکستانی تارکین وطن کے مسائل سامنے لاتے ہیں اور موجودہ کرائسز کے دور میں بھی فعال کردار ادا کرتے نظر آئے۔

آخر میں دو ایسی شخصیات کا ذکر کروں گا جو پیشہ کے لحاظ سے صحافی تو نہیں مگر پوری صحافی کمیونیٹی کسی حد تک ان کی مصدقہ معلومات پر بیس کرتی ہے۔ ان میں سے ایک میرے دوست نوید احمد اندلسی  اور دوسرے ٹیکسی سیکٹر سے سید شیراز شاہ ہیں۔ نوید احمد اندلسی تمام مقامی اخبارات، سرکاری رسالوں اور مختلف ذرائع سے معلومات کو فلٹر، تصدیق اور ترجمہ کے ساتھ پاکستانی کمیونیٹی کو پیش کرتے ہیں جبکہ ہمارے شاہ صاحب ہسپانوی، کاتالان، عرب اور یورپین میڈیا کو ہینڈل کرکے پاکستانی کمیونیٹی کے لیے بہترین رپورٹس شائع کروانے کا کریڈٹ رکھتے ہیں۔

صحافی بھائیوں اور بہنوں، آج آپکا عالمی دن ہے اور یہ بندہ آپکی خدمات پر صرف آپکا شکریہ ہی ادا کر سکتا ہے۔ مولا کریم آپکی قلم اور کی بورڈ کو مزید طاقت عطا کرے، آمین

نوٹ: پہلی تحریر میں کچھ نام شامل نہیں تھے، مگر دوستوں کے توجہ دلانے پر شامل کیے گئے ہیں، میں رہنمائی کرنے والے دوستوں کا مشکور ہوں۔

Comments are closed.