کراچی میں تاجر برادری کا پیر سے اپنا کاروبار مکمل طور پر کھولنے کا اعلان

کراچی: سندھ میں تاجروں نے پیر سے اپنا کاروبار مکمل کھولنے کا اعلان کر دیا ہے، تاجروں کا کہنا ہے کہ اگر مارکیٹیں اسی طرح بند رہی تو یہ حلال کمانے والا طبقہ بھی چوری،ڈکیتیوں یا پھر خودکشیوں پر مجبور ہوگا۔

تاجروں کے ایک نمائندہ وفد نے جامعہ بنوریہ عالمیہ کے رئیس وشیخ الحدیث مفتی محمد نعیم سے کراچی میں ملاقات کی، وفد میں کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر،جمیل پراچہ ، شیر جیل گوپلانی، چوہدری ایوب سمیت دیگر تاجر تنظیموں کے نمائندے شامل تھے۔

تاجروں نے کہا کہ ہم پیر سے اپنا مکمل کاروبار کھول رہے ہیں، ملازمین بے روزگاری سے پریشان اور فاقہ کشی پر مجبور ہیں اگر مارکیٹیں اسی طرح بند رہی تو یہ حلال کمانے والا طبقہ بھی چوری،ڈکیتیوں یا پھر خودکشیوں پر مجبور ہوگا، بہتر یہ ہے کہ ہم کاروبار کھولیں اور ایس او پیز پر عمل کریں۔

شیخ الحدیث مفتی محمد نعیم نے کہا کہ کورونا کے لاک ڈاؤن کی وجہ سے پوری قوم مشکلات کا شکار ہے اس سے نکلنے کیلئے دعاؤں اور کثرت استغفار کی ضرورت ہے، وہی ذات ہمیں اس مشکل سے نکلنے میں مدد دے سکتی ہے،انھوں نے کہا کہ وبا کا انکار ممکن نہیں ہے لیکن کیا کورونا کاعلاج کئی سال تک نہیں ملے گا تو لاک ڈاؤن بھی اتنا ہی طویل رکھا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ تاجر برداری کے ساتھ حکومت کو چاہیے کہ وہ تعاون کرے،کیونکہ تاجر معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، بے روزگاری بڑھے گی تو چوری، ڈکیتیاں اور دیگر جرائم عام ہوجائیں گے جو کرونا سے زیادہ خطرناک ہوںگے۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مفتی محمد نعیم نے کہا کہ شہر قائد پاکستان کا معاشی حب میں ایس او پیز کے ساتھ کاروبار کھولنے کی اجازت دینی چاہیے، کورونا سے احتیاط لازمی ہے، تاجر اپنی صفوں میں موجود منافع خوروں اور گراں فروشوں کو بھی نکال باہر کریں۔

Comments are closed.