پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے نئے ڈومیسائل قانون کا نفاذ مسترد کردیا

اسلام آباد: پاکستان نے مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارت کی جانب سے نیا ڈومیسائل قانون کا نفاذ سختی سے مسترد کردیا، ترجمان دفترخارجہ عائشہ فاروقی کا کہنا ہے بھارت کے ایسے ہتھکنڈوں کا مقصد مقبوضہ کشمیرکے عوام کو مزید محروم رکھنا اور آبادی کا تناسب بدلنا ہے۔

ترجمان دفترخارجہ کی جانب سے جاری بیان میں بھارت کے نئے ڈومیسائل قانون کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ ایکٹ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی صریحا خلاف ورزی ہے، یہ 4 جنیوا کنونشنز اور پاک بھارت دوطرفہ معاہدوں کی بھی خلاف ورزی ہے،ڈومیسائل قانون کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب کو بدلنا ہے۔

عائشہ فاروقی نے کہا ہے کہ مودی سرکار غیرقانونی ڈومیسائل ایکٹ کے ذریعے جموں وکشمیر کے عوام کے آزادانہ استصواب رائے کے حق پر اثر انداز ہونا چاہتا ہے، ایسے اقدامات جموں و کشمیر کی متنازعہ حثیت کو نہیں بدل سکتے، نہ ہی کشمیری عوام کے حق خودارادیت پر اثر انداز ہوسکتے ہیں، جب کہ بھارت کے اس اقدام کا وقت بھی قابل مذمت ہے۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ جب دنیا کورونا کی وبا سے نمٹ رہی ہے، یہ آر ایس ایس، بی جے پی سوچ کی اخلاقی گراوٹ اور موقع پرستی کا ثبوت ہے، مقبوضہ کشمیر کے عوام نے دیگر اقدامات کی طرح ڈومیسائل قانون بھی مسترد کردیا ہے، اس ایجنڈا کا مقصد ان کی زمین ہتھیانا، سیاسی اور اقتصادی طور پر کنارے لگانا ہے۔

عائشہ فاروقی نے کہا ہے کہ پاکستان عالمی برادری کو بھارت کے حقیقی عزائم سے آگاہ رکھ رہا ہے،مقبوضہ کشمیرمیں پانچ اگست کے یکطرفہ اقدام کے بعد کشمیریوں کا ماورائے عدالت قتل، ان پر پابندیاں، فوجی کریک ڈاون اور جبری نظربندیوں سے دنیا کو آگاہ کر رہے ہیں۔

ترجمان دفترخارجہ  عائشہ فاروقی کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو بھارتی کوششیں روکنے کے لئے فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر بھارت کا احتساب کرنا ہوگا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.