پی آئی اے کا مسافر طیارہ کراچی ایئرپورٹ کے قریب گر کر تباہ، کم از کم 60 افراد جاں بحق

کراچی: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کا لاہور سے کراچی آنے والا مسافر طیارہ اے 320 ایئربس جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی کے قریب رہائشی علاقے ماڈل کالونی میں گر کر تباہ ہوگیا، جس میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق کم از کم  60 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا کہ واقعہ ماڈل کالونی کے علاقے جناح گارڈن میں پیش آیا، جہاں طیارہ رہائشی مکانات پر جاگرا جس میں متعدد افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی گئی۔ پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ نے حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ قومی ایئر لائن کی پرواز 8303 لاہور سے 91 مسافروں اور عملے کے 8 افراد کو لے کر کراچی آرہی تھی۔

یا اللہ رحم ……. لاہور سے آنے والا پی آئی اے کا طیارہ کراچی ائیرپورٹ کے پاس گر گیا۔۔۔۔

Posted by News Diplomacy on Friday, May 22, 2020

اس واقعے کے فوری بعد سامنے آنے والی فوٹیجز میں حادثے کے مقام سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے جبکہ جائے وقوع پر موجود عینی شاہدین کے مطابق طیارے میں تباہ ہونے سے پہلے آگ لگ گئی تھی۔ رینجرز اور سندھ پولیس کے اہلکار ریسکیو آپریشنز میں مصروف عمل ہیں۔ ایک اور ویڈیو میں ایدھی ورکرز اور فائرفائٹرز کو طیارے کی باقیات ہٹاتے اور حادثے میں بچ جانے والے افراد کو تلاش کرتے دیکھا گیا۔

عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ ایئربس 320 نے تباہ ہونے سے قبل بظاہر 2 سے 3 مرتبہ لینڈ کرنے کی کوشش کی،برطانوی خبررساں ادارے کی رپورٹ میں عینی شاہد کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ طیارہ ایئرپورٹ سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ایک موبائل ٹاور سے ٹکرایا اور رہائشی علاقے پر گر کر تباہ ہوگیا۔

دوسری جانب امریکی خبررساں ادارے’اے پی’ کی رپورٹ کے مطابق مسافرطیارہ متوقع لینڈنگ سے چند لمحے قبل تباہ ہوا، ویب سائٹ لائیو اے ٹی سی ڈاٹ نیٹ پر موجود ایئر ٹریفک کنٹرول کے ساتھ پائلٹ کی آخری بات چیت سے عندیہ ملتا ہے کہ طیارہ لینڈ کرنے میں ناکام ہوگیا تھا اور ایک اور کوشش کے لیے چکر لگارہا تھا۔

وزیرصحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے حادثے کے بعد جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کا دورہ کیا اور ابتدائی طور پر بتایا کہ حادثے میں کتنے افراد زخمی ہیں یہ کہنا قبل از وقت ہوگا تاہم ابتدائی معلومات کے مطابق جناح ہسپتال میں 11 لاشوں اور 6 زخمیوں کو لایا گیا جس میں سے 4 کی حالت بہتر اور 2 کی تشویش ناک ہے او وہ جھلسے ہوئے ہیں۔

صوبائی وزیرصحت نے بتایا کہ حکام جاں بحق افراد کی شناخت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ ان کے اہل خانہ کو آگاہ کیا جاسکے۔ کووِڈ 19 کی وجہ سے تمام ڈاکٹرز پہلے ہی الرٹ تھے اور لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹنگ کا عمل شروع کردیا ہے۔ تاہم کچھ دیر بعد وزارت صحت سندھ کی میڈیا کو آرڈینیٹر میران یوسف نے حادثے میں اب تک 54 افراد کی اموات ہو چکی ہے، بعد ازاں مزید6 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی گئی۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حکام کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ  آیا یہ تمام جاں بحق افراد پرواز میں موجود تھے یا جس رہائشی مقام پر حادثہ آیا وہاں مقیم تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک 35 لاشیں جناح جبکہ 19 سول ہسپتال لائیں گئی ہیں جبکہ اس حادثے میں 3 افراد محفوظ بھی رہے ہیں۔

اس سے قبل ریسکیو سروس ایدھی کے ترجمان سعد ایدھی نے ابتدائی طور پر بتایا تھا کہ 35 لاشوں کو مختلف ہسپتال منتقل کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ تقریباً 25 سے 30 افراد زخمی ہیں جو علاقہ مکین ہیں اور انہیں ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

قبل ازیں ترجمان پی آئی اے نے بتایا کہ طیارے کا رابطہ 2 بجکر 37 منٹ پر منقطع ہوا تھا، حادثے کی وجوہات کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، ہمارا عملہ ہنگامی لینڈنگ کے لیے تربیت یافتہ ہے۔ ترجمان نے کہا کہ میری دعائیں تمام متاثرہ اہلخانہ کے ساتھ ہیں، ہم شفاف طریقے سے معلومات فراہم کرتے رہیں گے۔

واقعے کے بعد پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایئر مارشل ارشد ملک نے فوری طور پر کراچی روانہ ہوتے وقت ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ پائلٹ نے کنٹرول روم کو بتایا کہ طیارے میں کوئی تکنیکی مسئلہ ہے اور اس نے لینڈنگ کے لیے 2 رن وے تیار ہونے کے باوجود لینڈنگ کے بجائے واپس گھومنے کا فیصلہ کیا۔

واقعے کے فوری بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے، ریسکیو حکام اور مقامی لوگ جائے وقوع پر پہنچ گئے۔ پی آئی اے کی جانب سے اس سلسلے میں ایمرجنسی رسپانس یونٹس کے نمبر بھی جاری کیے گئے تاکہ اگر کوئی بھی فرد واقعے سے متعلق یا مسافروں کی تفصیلات جاننا چاہتے تو وہ ان نمبروں پر رابطہ کرسکے۔ ایئرلائن کے فراہم کردہ نمبر 02199242284، 02199043766، 02199043833 ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.