چوہدری بننے کے لئے سی ایس ایس کا امتحان کیوں؟

تحریر: نورالامین دانش

اربوں کی پراپرٹی رکھنے والے شہر کے بڑے بزنس مین کا فرزند کروڑوں کے پراجیکٹس کی نگرانی کے لئے فراٹے مارتی مہنگی ترین گاڑی میں جاتا جو کہ شہر میں شاید چند ایک لوگوں کے پاس ہی ہو گی۔ گھر سے نکلتے ہی قریبی چیک پوسٹ پر کئی دن پرانی ان دھلی یونیفارم پہنے پولیس اہلکار گاڑی پر ایسا جھپٹتا ہے کہ پھر پلٹنے کی توفیق بھی نہیں رہتی۔گاڑی کے کاغذ، آئی ڈی کارڈ اور اس کا بس چلے تو والدین کا نکاح نامہ بھی طلب کر لے۔

یہ روز کا معمول تھا اور اس سارے عمل میں روکنے کی وجہ پوچھنا جناب کے اقبال کو سیدھا سیدھا چیلنج کرنے کے مترادف ہوتا ہے۔ گاڑی کے کاغذ لے کر پولیس اہلکار سڑک کی دوسری جانب کسی مقامی ٹینٹ سروس کی کرسی پر تشریف آور  ہوجاتے ہیں جہاں پہلے سے لائن میں لوگ خدمت گزاری کا شرف حاصل کرنے کے لئے بے تاب دل کے ساتھ موجود ہوتے ہیں۔

شہر کے 80 فیصد ناکوں پر یہی صورتحال دیکھنے کو ملتی ہے،بخشش کا واحد حل کسی بڑے بابو کی کال کے ذریعے ہی ممکن ہوتا۔بڑے بڑے شاپنگ مالز، محلات، ہاوسنگ سوسائٹیز کے مالکان، پولیس اسٹیشنز کے رنگ و روغن سے لے کر لاکھوں روپے کے اخراجات برداشت کرنے کو سعادت سمجھتے ہیں۔

ساری صورتحال دیکھ کر ارب پتی باپ کی اولاد بزنس سنبھالنے کی بجائے سینٹرل سپریئر سروسز (سی ایس ایس) اپنانے کی ضد کرتا ہے، سیٹھ صاحب حیرانگی کا اظہار کرتے ہیں کیونکہ جس برانڈ کے برخوردار نے جوتے پہنے ہوتے ہیں اس سے کم سی ایس ایس افسر کی ماہانہ تنخواہ ہوتی ہے، پولیس چیف یا بڑے انتظامی افسران کو ملنے والی سرکاری گاڑیوں سے زیادہ اچھی سواری پر تو گھر کا سودا سلف لایا جاتا ہے۔

معزز قارئین کرام یہ کوئی کہانی یا مبالغہ آرائی نہیں ہے، جب فلاحی ریاست کے نظریات کو ٹھگ لائف میں تبدیل کیا جائے گا تو صورتحال یہی ہو گی۔ آج ہر دوسرے گھر کی یہی کہانی ہے، اربوں کھربوں پتی لوگ اس بات کو یقینی بناتے کہ اپنے بزنس کی حفاظت اور چوہداہٹ کے لئے خاندان میں سے کسی نہ کسی کو سی ایس ایس افسر ضرور بنایا جائے۔

چند روز قبل پولیس کے ایک بڑے افسر سے اسی موضوع پر بات ہو رہی تھی تو انہوں نے لاہور کی سڑکوں پر ان کے ساتھ ہونے والے پولیس گردی کی جو آب بیتی سنائی، اس کے بعد اُن کا سی ایس ایس کرنا بنتا تھا بلکہ انہوں نے اس وقت کے کسی ہیڈ کانسٹیبل کا نام لے کر کہا کہ میرے سی ایس ایس کرنے میں جناب کا بہت بڑا ہاتھ ہے کیونکہ جب میں تیاری میں ڈھیلا پڑتا تو جناب کسی نہ کسی چوک میں روک کر اپنی ایسی عدالت لگاتے کہ میں اگلے کئی ہفتوں کے لئیے چارج ہو جاتا۔

سی ایس ایس افسر بننے میں کوئی ہرج نہیں ہے لیکن اس امتحان کو اپنی بقا کی جنگ کے نظریات سے پاس کرنا خطرناک رجحان ہونے کے ساتھ ساتھ اس بدبودار نظام پر عدم اطمینان کا اظہار بھی ہے جو کہ آئندہ کئی دہائیوں تک اس خطے کو فلاحی ریاست کی بجائے جنگجو بنانے پر بضد ہے۔

جب معاشرے میں گلی کے ان پڑھ لوفر لمبے بال اور مونچھوں کو تاؤ دے کر زمینوں پر قابض ہوں گے، تھانہ، کچہری حتیٰ کہ پوسٹ مارٹم رپورٹس بھی چند ٹکوں کے عوض بکیں گی تو ایسے ماحول میں لوگ خدمت خلق کی بجائے اپنی جان و مال کے تحفظ کے لئے مقابلے کا امتحان دیں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.