حقِ خود ارادیت کشمیریوں کا حتمی مطالبہ،کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، کل جماعتی کانفرنس

مظفرآباد: کشمیر کی صورتحال، درپیش چیلنجز اور کشمیریوں کی ذمہ داریوں کے عنوان پر کل جماعتی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔  جس میں آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجا فاروق حیدر سمیت تمام سیاسی جماعتوںکی قیادت، حریت رہنماؤں، سابق سفرا نے شرکت کی،  کانفرنس کے اختتام پر شرکاء کی تجاویز اور مطالبات پر مبنی 22 نکاتی مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کل جماعتی کانفرنس مقبوضہ جموں و کشمیر کی بگڑتی صورتحال پر گہری تشویش  کا اظہار اور مقبوضہ وادی کے عوام کی بے مثال جدوجہد اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے، حریت پسند کشمیریوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے تحریک آزادی کیلئے ہر سطح پر بھرپور مدد اور حمایت کا یقین دلایا گیا۔

اے پی سی کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں ناقابل تقسیم وحدت ہے، کشمیری عوام کا بنیادی حق۔۔۔ حقِ خود ارادیت ایک مقدس، ناقابل تنسیخ اور حتمی مطالبہ ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔ کشمیری شفاف استصواب رائے کے ذریعے اپنے حق کا استعمال کریں گے۔

اعلامیے کے مطابق کل جماعتی کانفرنس سمجھتی ہے کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل کشمیریوں کو اپنی سرزمین پر قابض قوت (بھارت) سے نجات حاصل کرنے اور اپنے حقوق اور سرزمین کے دفاع کیلئے نہ صرف احتجاج کا حق رکھتے ہیں بلکہ مسلح جدوجہد بھی کر سکتے ہیں، جو دہشت گردی نہیں بلکہ جائز مزاحمتی تحریک ہے، اس کا ساتھ دینا ہر انصاف پسند شہری پر فرض ہے۔

کل جماعتی کانفرنس نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے یکطرفہ اقدام کے ذریعے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کر کے متنازعہ علاقے کو دوحصوں میں تقسیم اور یونین ٹیرٹری بنانے کی شدید مذمت کی ہے،  غیر مقامی افراد کو جموں و کشمیر کے ڈومیسائل اجراء کو گھناؤنی سازش قرار دیئے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

کشمیر کی تمام سیاسی قیادت نے اس اہم کانفرنس میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری معصوم کشمیریوں کے قتل عام، انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں، بھارتی فوج کے جنگی جرائم پر عالمی عدالت میں مقدمہ چلانے پر غور کرنے اور بھارتی مظالم رکوانے کے لئے جارحانہ پالیسی اپنانے کا فیصلہ کیا۔

کل جماعتی کانفرنس نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اسلامی تعاون تنظیم، مسلم ممالک میں قائم انسانی حقوق کے اداروں کی مدد سے بھارتی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم تیز کرائے اور بھارت میں سرمایہ کاری رکوانے کیلئے دیگر ممالک کو آمادہ کرے۔ اے پی سی نے حریت رہنماؤں سید علی شاہ گیلانی، میر واعظ عمر فاروق سمیت دیگر قائدین کے طویل عرصے سے نظربندی اور قید کی مذمت کی۔

اعلامیے میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے مطالبہ کیا گیاکہ محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، میاں عبدالقیوم ایڈووکیٹ، آسیہ اندرابی سمیت تمام گرفتار سیاسی رہنماؤں، کاروباری شخصیات اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو غیرقانونی قید سے رہا کرانے کیلئے کردار ادا کریں۔

لداخ میں چین کے ہاتھوں عبرتناک شکست اور ہزیمت اٹھانے کے بعد مودی سرکار کی جانب سے ایل او سی پر فالس فلیگ آپریشن کا امکان ظاہر کرتے ہوئے کل جماعتی کانفرنس نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کو کسی ایسی مہم جوئی سے روکے کیونکہ یہ دو ایٹمی ممالک کے ساتھ ساتھ علاقے اور پوری دنیا کیلئے تباہ کن ہوگا۔

آل پارٹیز کانفرنس میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں سات سال سے عملاً قید آزاد کشمیر اور پاکستان سے تعلق رکھنے والی 300خواتین کو سفری دستاویزات مہیا کرنے، ایل او سی پر بلا اشتعال فائرنگ رکوانے کیلئے اقوام متحدہ کے موثر کردار ادا کرنے پر زور دیا گیا۔

کل جماعت کشمیر کانفرنس میں کہا گیا ہ آئین میں ترامیم تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر اتفاق رائے سے کرنے اور پیپلز پارٹی دور کے آئینی ترمیم کے مسودے کو متوقع ترمیم کی بنیاد بنایا جائے، اس کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان میں اسٹیٹ سبجیکٹ قوانین میں ترامیم کو واپس لیتے ہوئے سابقہ صورتحال بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

Comments are closed.