یواین ایچ سی آر کا افغان مہاجرین کی تعلیم،رہن سہن کےشعبوں میں عالمی سرمایہ کاری کا مطالبہ

اسلام آباد: اقوام متحدہ کے ہائی کمشن برائے پناہ گزین نے افغان مہاجرین کی تعلیم، رہن سہن اور صحت کے شعبوں میں بین الاقوامی برادری سے اضافی سرمایہ کاری کا مطالبہ کیا ہے۔

افغان مہاجرین کے مسئلے کا پائیدار حل اور عملی تعاون کے لئے اعلیٰ سطح کا اجلاس پناہ گزینوں کے حوالے سے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر فلیپو گرانڈی کی جانب سے بلایا گیا جس میں  پاکستان، افغانستان اور ایران کے وزراء، اعلیٰ حکام اور متعلقہ بین الاقوامی تنظیموں کے عہدیداروں نے شرکت کی۔

اجلاس کو بلانے کا مقصد افغان مہاجرین کے مسائل حل کرنے کیلئے حکمت عملی سے متعلق پروگرام (ایس ایس اے آر) کے تحت جاری منصوبوں کیلئے تعاون حاصل کرنا تھا۔ پاکستان، افغانستان، ایران اور یو این ایچ سی آر کی جانب سے مشترکہ طور پر افغان مہاجرین کیلئے تعلیم، صحت اور رہن سہن سمیت توانائی، پانی اور معاشرتی ڈھانچے کے منصوبوں کا پروگرام شروع کیا گیا۔

Activity - Insert animated GIF to HTML

گزشتہ برس دسمبر میں سوئٹزرلینڈ کے شہرجنیوا میں ہونے والے گلوبل ریفیوجی فورم میں تینوں ممالک (پاکستان، افغانستان، ایران) نے یو این ایچ سی آر کے ساتھ مل کر’’سپورٹ پلیٹ فارم‘‘ کا آغاز کیا جس کا مقصد مہاجرین کو سنبھالنے والے ممالک کی مدد کیلئے اضافی وسائل پیدا کرنے، مہاجرین کی پائیدار واپسی اور افغانستان میں دوبارہ کامیاب آبادکاری تھا۔

آن لائن اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) کی پاکستان میں نمائندہ مس نوریکو یوشیدا کا کہنا تھا کہ اضافی امداد کا مقصد مہاجرین کو سنبھالنے والے ممالک پر دباؤ میں کمی اور تمام تر چیلنجز کے باوجود افغانستان کی مدد کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کو پاکستان اور ایران کا بوجھ بانٹنے کے لئے آگے بڑھنا ہوگا کیونکہ یہ دونوں ممالک کئی دہائیوں سے 90 فیصد افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہے ہیں، افغان پناہ گزینوں کو تعلیم اور رہن سہن کی سہولیات مستقبل کی امید ہے۔

اس اقدام کا مقصد تعلیم و تربیت، صحت، نوجوانوں کو با اختیار بنانے کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع ڈھونڈنا ہے کیونکہ افغانستان کی تین کروڑ 70 لاکھ آبادی 15 سال سے کم عمر ہے، جب کہ پاکستان میں رجسٹرڈ 64 فیصد افغان مہاجرین کی عمریں 25 سال سے کم ہیں۔

اس موقع پر وفاقی وزیربرائے سفیرون محبوب سلطان نے انسانی حقوق اورترقیاتی شعبوں کے امدادی اداروں پر زور دیا کہ وہ اِن اہم منصوبوں میں سرمایہ کاری کریں لیکن اسے روایتی امداد اور فنڈنگ کے ساتھ نہ جوڑا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مہاجرین کو سنبھالنے والے ممالک کیلئے روایتی امداد میں پہلے ہی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، بین الاقوامی برادری کو پناہ گزینوں کا بوجھ بانٹنے کیلئے کردار ادا کرنا ہوگا۔

محبوب سلطان نے کہا کہ پاکستان افغان مہاجرین کی رضاکارانہ، محفوظ اور باوقار واپسی کیلئے پرعزم ہے، اس مقصد کے لئے افغان شہریوں کی اپنے ملک واپسی اور آبادکاری کے ترجیحی معاملات کے حوالے سے تعاون کی سخت ضرورت ہے تا کہ مہاجرین کی پائیدار انداز میں واپسی یقینی بنائی جا سکے۔

پاکستان 14 لاکھ رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے جب کہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائےپناہ گزین (یو این ایچ سی آر) کے تعاون سے 2002 سے تقریباً 44 لاکھ افغان مہاجرین کی رضاکارانہ واپسی ہو چکی ہے۔

Comments are closed.