سپریم کورٹ آف پاکستان نے وزیر ریلوے شیخ رشید کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیئے

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیئے، عدالت  کا کہنا ہے کہ  ریلوے کا نہ صرف ڈھانچہ ابتر حالت میں ہے بلکہ بظاہر عملہ بھی ریلوے کو چلانے کی اہلیت نہیں رکھتا، حکومت ریلوے کی اوورہالنگ پلان سے متعلق ایک ماہ میں رپورٹ پیش کرے۔

سپریم کورٹ میں ریلوے خسارہ کیس کی سماعت ہوئی، جس میں عدالت عظمیٰ نے وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کی کارکردگی پر سوالات اُٹھا دیے،  عدالتی حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ریلوے اس طرح سے فعال نہیں ہے جس طرح سے اسےہونا چاہیے، مسلسل ریلوے حادثات سے قیمتی جانیں ضائع اور ریلوے کا بڑا نقصان ہو رہا ہے۔

سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ پاکستان ریلویز میں بہتری نظر نہیں آ رہی، محکمے میں نا صرف انفراسٹرکچر ابتر حالت میں ہے بلکہ بظاہر عملہ بھی ریلوے کو چلانے کی اہلیت نہیں رکھتا،حکومت وقت کو پاکستان ریلویز کو چلانے کے لیے سنجیدگی کے ساتھ سوچنے اور تمام شعبہ جات میں مجموعی طور پر بہتری کی اشد ضرورت ہے۔

Activity - Insert animated GIF to HTML

سپریم کورٹ نے توقع ظاہر کی ہے کہ حکومت فوری طور پر سنجیدہ اقدامات کرے گی تاکہ ریلوے عوام کی زندگیوں کے ساتھ کھیل نا سکے اور شہریوں کی جان کی حفاظت یقینی بنائی جائے،عدالت نے حکومت سے شہریوں کی جان ومال کی حفاظت اور اوورہالنگ سے متعلق اقدامات اٹھا کر رپورٹ ایک ماہ میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

عدالتی حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کو بتایا گیا کہ ریلوے ایم ایل ون منصوبہ منظوری کے لیے ایکنک میں زیرِالتوا ہے، عدالت توقع کرتی ہے کہ ایکنک ایم ایل ون منصوبے کے پی سی ون کو قانون کے مطابق ایک ماہ میں منظور کرے گی۔

چیف سیکرٹری سندھ کراچی سرکلر ریلوے میں اوور ہیڈ پلوں سمیت تمام کام ترجیحی بنیادوں پر پورا کر کے  دو ہفتوں میں رپورٹ جمع کروائے، جب کہ آئندہ سماعت پر چیف سیکرٹری سندھ اور کمشنر کراچی ذاتی حیثیت میں پیش ہوں، عدالت مقدمے کی مزید سماعت ایک ماہ کے لئے ملتوی کردی۔

Comments are closed.