’اپوزیشن نے FATF قانون پر بلیک میلنگ، نیب کیسز سے چھٹکارے کا منصوبہ بنایا‘

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، مشیر برائے داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہا ہےکہ اپوزیشن نے نیب قوانین جو ترامیم تجویز کی ہیں وہ این آر او پلس پلس ہیں۔ اپوزیشن نے ایف اے ٹی ایف قانون پر بلیک میلنگ  کی اور نیب کیسز سے چھٹکارے کا منصوبہ بنایا۔

شاہ محمود قریشی اور بیرسٹر شہزاد اکبر نے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے قوانین میں ترامیم جیسے حساس معاملے پر بلیک میلنگ کی، قانون سازی کی آڑ میں تمام نیب کیسز سے چھٹکارا حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اپوزیشن کے تجاویز کے بعد نیب قانون مرجاتا ہے اور نوبت فاتحہ پڑھنے پر آجاتی ہے، اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے گاجریں نہیں کھائیں اس لیے آزاد ہیں، جنہوں نے گاجریں کھائی ہیں، اب کے پیٹ میں درد ہے، خواجہ آصف کو بتانا چاہتا ہوں کہ میں نے رنگ بازی نہیں کی جب کہ احتساب کا پکا راگ سنایا ہے۔

Activity - Insert animated GIF to HTML

مشیر داخلہ اوراحتساب شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ پاکستان سال 2013 میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ میں گیا، جعلی بینک اکاؤنٹ اور ٹی ٹی کلچر نے ملک کو اس نوبت تک پہنچایا۔ ان کا کہنا تھاکہ اپوزیشن نے نیب کے 37 سیکشن میں سے 34 میں ترامیم تجویز کی جو اس قانون میں 34 ٹانکے لگانے کے مترادف ہے۔ اس طرح اپوزیشن تمام کیسز سے نکل جاتی ہے۔ اور چارٹرڈ آف کرپشن کرنے والے دو خاندان چھوٹ جاتے ہیں۔

اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن کے معاملے پر بلاول کو مکمل معلومات نہیں دی گئیں، بھارت بار بار انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں جانا چاہتا ہے۔ بھارت کی کوشش ہے کہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف میں بلیک لسٹ کیا جائے، بروقت قانون سازی وقت کی ضرورت ہے اسی لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر قانون سازی کرسکتے ہیں۔

Comments are closed.