چائنا کلچرل سینٹرکی کورونا وباء کےدوران آن لائن ثقافتی سرگرمیوں کوزبردست پذیرائی

اسلام آباد: ثقافت کے فروغ کے لئے قائم ادارے چائنا کلچرل سینٹر نے کورونا وائرس کے باعث پیدا صورتحال کے دوران بھی ثقافتی سرگرمیاں جاری رکھیں، عالمی وباء کے دوران 30 سے زائد آن لائن پروگرامز منعقد کرائے گئے جن میں 8 ہزار سے زائد افراد نے دیکھا۔

دنیا بھر میں اچانک سامنے والے کورونا وائرس کے باعث فن اور ثقافتی ورثے کا  شعبہ نہ صرف متاثر ہوا بلکہ اس وباء کے باعث عالمی سطح پر صحت کے بحران پیدا ہوئے جو کہ مختلف اداروں کے جاری امور اور عوام پر بہت زیادہ اثرانداز ہوا۔

کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کیلئے مارچ 2020 کے بعد بیشتر ثقافتی ادارے غیر معینہ مدت کے لئے بند یا ان کی سرگرمیوں کو یکسر کم کر دیا گیا۔ ثقافتی نمائشیں، تقاریب اور فنکاروں کی پرفارمنس کو منسوخ یا ملتوی کر دی گئیں۔ ایسے میں مختلف اداروں کی طرح چائنا کلچرل سینٹر نے آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے متبادل خدمات کی فراہمی یقینی بنائی۔

Activity - Insert animated GIF to HTML

چینی ثقافت کے فروغ کیلئے قائم ادارے کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مختلف شعبوں میں کم سے کم وسائل کے ساتھ ضروری سرگرمیوں کو بحال رکھنے اور مختلف واقعات کو دستاویزی شکل دینے کی سنجیدہ کوششیں کی گئیں اور ان میں وبائی امراض سے متاثر ہونے والے نئے تخلیقی کام شامل ہیں۔

اس وباء کے خلاف جنگ اور وائرس پر قابو پانے کیلئے بااعتماد کوششوں کے عزم کے اظہار کیلئے چائنا کلچرل سینٹر کی جانب سے آن لائن ثقافتی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ کورونا وباء کے دوران چائنا کلچرل سینٹرل کے آفیشل فیس بک پیج کے ذریعے 30 سے زائد تصاویری نمائشوں، دستاویزیں فلموں اور ثقافتی سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا جسے 8 ہزار سے زائد افراد نہ صرف دیکھا بلکہ اسے بے حد سراہا بھی گیا۔

ادارے کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ چائنہ آن لائن سیریز کی ثقافتی سرگرمیوں میں چینی قبیلوں کے شاندار روایتی ملبوسات، چینی ثقافت، تاریخی و سیاحتی مقامات، چین کے قدیم دارالحکومت پرل کا خزانہ ہاؤس، عالمی ثقافتی ورثہ، شاہراہ ریشم، چین کے  نئے سال سمیت مختلف موضوعات اور مقامات کے حوالے سے نمائشیں اور پروگرام دکھائے گئے۔

چائنا کلچرل سینٹر کے آفیشل فیس بک پیج کا لنک ذیل میں درج ہے جہاں پر آپ بھی ان ثقافتی سرگرمیوں کو دیکھ سکتے ہیں۔

https://facebook.com/cccenterinpak

Comments are closed.