5فروری۔ یوم یکجہتی کشمیر!

محمد رضا ملک

غیر قانونی طور پربھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے لوگوں نے1989 میں اپنے حق خودارادیت کے حصول کی جدوجہد تیزکی۔ اس عوامی تحریک نے بھارتی حکمرانوں کی نیندیں اڑادیں اور انہوںنے اسے کچلنے کے لئے طا قت کے وحشیانہ استعمال کا فیصلہ کیا۔ اس وقت کی بھارتی قیادت نے کشمیریوں کو مرعوب کرنے اور ڈرانے کی غرض سے فاروق عبداللہ کی حکومت برطرف کرنے کے19 جنوری 1990 کو جگموہن ملہوترا،جو بھارت میں مسلم مخالف تعصب اور سرگرمیوں کے لئے بدنام تھا،مقبوضہ علاقے کا گورنر مقررکیا ۔ اپنا عہدہ سنبھالنے کے فورا بعد جگموہن نے بھارتی فوجیوں کو آزادی پسند کشمیریوں کے ساتھ بے رحمی کے ساتھ نمٹنے کا حکم دیا۔ فوجیوں نے مقبوضہ کشمیرمیں دہشت گردی کا بازار گرم کر دیا اور انہوں نے 20 جنوری کی رات گھر گھر تلاشی کے دوران سرینگر میں متعدد خواتین کی بے حرمتی کی۔ اگلی صبح جب لوگوں کو خواتین کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کے بارے میں پتا چلا تو اس ظلم و بربریت کے خلاف ہزاروں افراد شہر کی سڑکوں پر نکل آئے۔فوجیوں نے گاﺅکدل کے علاقے میں ان مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ کرکے50 سے زائد افراد قتل اورسینکڑوں زخمی کر دیے۔ اس قتل عام سے پاکستان میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور آنے والا5 فروری ملک بھر میں یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منانے کا اعلان کیاگیا۔ تب سے ہر سال سرکاری سطح پرمقبوضہ جموںوکشمیر کے مظلوم لوگوں کے ساتھ اتحادکے ا اظہار کے لئے یہ دن منایا جارہا ہے۔

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ بھارت نے برصغیر پاک و ہند کی تقسیم کے منصوبے کی مکمل خلاف ورزی کرتے ہوئے اور کشمیریوں کی خواہشات کے بر عکس27 اکتوبر 1947 کو سرینگر میں اپنی فوجیں اتار کر جموں و کشمیر کی سرزمین پر غیرقانونی قبضہ کیا۔ تقسیم ہند کے منصوبے کے تحت برطانوی ہندوستان کو دو خودمختار ریاستوں میں تقسیم کیا جانا تھا۔ ہندو اکثریتی علاقوں کو بھارت میں جبکہ مغربی صوبوں اور مشرقی بنگال کے مسلم اکثریتی علاقوں کو پاکستان میں شامل ہونا تھا۔ تقسیم ہند کے حوالے سے طے پانے والی تفہیم کے مطابق اس وقت کی شاہی ریاستوں کو اپنے جغرافیے اور آبادی کی بنیاد پر پاکستان یا بھارت میں شامل ہونے کا اختیا ردیا گیا تھا۔ 87فیصد کی بھاری مسلم آبادی پر مشتمل جموں و کشمیر پاکستان کا قدرتی حصہ تھا کیونکہ دونوں خطے ےکساں مذہب ، جغرافیے اور ثقافت کے مضبوط رشتے میں بندھے ہوئے تھے ۔تاہم بدقسمتی سے ایسا نا ہو سکااور اس بھارتی یلغار نے تنازعہ کشمیر کو جنم دیا۔جموں وکشمیر کے لوگوں نے اپنی سر زمین پربھارت کے غیرقانونی قبضے کے خلاف سخت مزاحمت کی اور اسے بھارتی تسلط سے آزاد کرانے کے لئے ایک عوامی تحریک شروع کی۔ ان کے غیرمعمولی جذبے اور ثابت قدمی نے بھارت کو پسپائی پرمجبور کر دیااور اس نے اس سخت صورتحال سے چھٹکارا پانے کے لئے عالمی برادری سے مددطلب کی۔ بھارت نے ےکم جنوری 1948 کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا دروازہ کھٹکھٹاےا اور عالمی ادارے نے یکے بعد دیگر ے منظور کی جانے والی اپنی قراردادوں میں بھارتی جارحیت کوغیر قانونی قرار دے دیا اور فیصلہ کیا کہ اس کی نگرانی میں غیر جانبدارانہ رائے شماری کا انعقاد کیا جائے گا جس میںجموںوکشمیر کے لوگوں کو اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنے کا موقع دیا جائے گا ۔لیکن انتہائی افسوس کی بات ہے کہ کئی دہائیاں گزر جانے کے باوجود بھی اب تک اقوام متحدہ کی ان قراردادوں پرعملدرآمد نہیںکیا گیاہے اور بھارتی رہنماﺅں نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے ہیں۔

بھارت ، جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویدار ہے ، کشمیریوں کی بھارتی قبضے سے آزادی حاصل کرنے کی جدوجہد کو دبانے کے لئے ہر سفاکانہ ہتھکنڈہ استعمال کررہا ہے ۔ بھارتی فورسز1947 سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کا ارتکاب کررہی ہیں تاکہ کشمیریوں کو خوف زدہ کر کے جدوجہد آزادی سے دستبردار کیا جا سکے۔ تاہم پچھلے 32 سالوں میں 95ہزار 741کشمیریوں کو شہید کرنے ،8,000سے زائد کو زیرحراست لاپتا کرنے اور 11ہزار234 خواتین کو عصمت دری کا نشانہ بنانے کے باوجود بھی وہ کشمیریوں کے جذبہ آزادی کوختم کرنے میں ناکام رہی ہیں اور کشمیری اپنی تحریک آزادی کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے پرعزم ہیں۔

05 اگست2019 کو نریندر مودی کی زیرقیادت فسطائی بھارتی حکومت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور اسکا سخت فوجی محاصرہ کر لینے کے بعد سے مقبوضہ علاقے میں بھارتی ریاستی دہشت گردی میں بہت زیادہ اضاقہ ہو گیاہے۔ قابض فوجیوں نے پورے مقبوضہ کشمیر میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاںتیز کردی ہےںاوروہ آئے روز بے گناہ کشمیریوں کو قتل کررہے ہیں۔ 05 اگست کے اس اقدام کے بعد مودی حکومت نے نئے ڈومیسائل قوانین متعارف کرانے سمیت متعدد غیر قانونی اور غیر آئینی اقدامات اٹھائے ہیں جن کا مقصد مقبوضہ علاقے میں بھارتی ہندوﺅں کو آباد کرنے کی راہ ہموار کر کے مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا ہے۔ یہ اقدامات مودی حکومت کے ان مذموم عزائم کا حصہ ہیں جنکا مقصد مستقبل میں جموں و کشمیر میں ہونے والی رائے شماری کے نتائج کوبھارت کے حق میں کرنا ہے۔

مقبوضہ کشمیر کے لوگوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے پاکستان کی حکومت اور عوام کشمیریوں کو ےہ واضح پیغام دیتے ہیں کہ وہ آزادی کے عظیم مقصد کے لئے اپنی جدو جہد میں تنہا نہیں ہیں۔ یوم یکجہتی کشمیر مناکر بھارت پر یہ واضح کیا جاتا ہے کہ اسے کشمیریوں کو انکا حق خود ارادیت، جسے اقوام متحدہ نے اپنی قراردادوں میں تسلیم کررکھا ہے، دینا پڑے گا۔ یوم یکجہتی کشمیرمنانے کا ایک اور مقصد عالمی ادارے کو یہ بھی پیغام دینا ہے کہ وہ تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کے لئے جموںوکشمیر میں استصواب رائے کے انعقاد کے حوالے سے اپنے وعدے اور ذمہ داریاں پوری کرے۔مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب بگاڑنے اور جموںوکشمیرکی متنازعہ حیثیت کو تبدیل کرنے کے مودی حکومت کے غیر قانونی اور غیر آئینی اقدامات کے پیش نظر مسئلہ کشمیرکا حل اور بھی ضروری ہوگیا ہے تاکہ علاقائی اور عالمی امن کو یقینی بناےا جا سکے۔

(مصنف اسلام آباد میں مقیم ایک سینئر صحافی ہیں)

Leave A Reply

Your email address will not be published.