اور محمد بن سلمان پاکستان نہ آئے

تحریر:ارشادمحمود

اسلام آباد: سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کا دورہ پاکستان ملتوی ہونا، ایک دھچکے سے کم نہیں۔ توقع تھی کہ ان کی آمد سے معیشت کی لڑکھڑاتی کشتی کو سہارہ ملے گا۔یہ دورہ ہوجاتا تو بہت ہی غیر معمولی ہوتاکیونکہ پاکستان جس طرح کے سیاسی بحران سے گزررہاہے، اس میں محمد بن سلمان کا پاکستان آنا، حکومت کو غیرمعمولی اعتماد دیتا۔ ظاہر ہے کہ سعودی عرب پاکستان کے داخلی حالات سے نہ صرف واقف ہے بلکہ ان چند ممالک میں شمار ہوتاہے، جنہیں پاکستان کے داخلی امور میں گہرا اثر ورسوخ بھی حاصل ہے۔یقینامحمد بن سلمان کو ان کے اداروں نے مشورہ دیا ہوگا کہ سیاسی استحکام آنے دیں۔سیاسی درجہ حرارت کم ہونے کے بعدوہ پاکستان کا دورہ کریں۔

حکومت چاہتی ہے کہ سعودی عرب پاکستان میں سرمایہ کاری کرے ۔ دو طرفہ تجارت کو فروغ د ے اور پاکستا نی ہنرمندوں کے لیے مزید دروازے کھولے تاکہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں قابل ذکر اضافہ ہوسکے۔اس طرح کی توقعات کرنے سے قبل ضروری ہے کہ گزشتہ دہائی کے دورا ن سعودی عرب میں بڑے پیمانے پر رونما ہونے والی معاشی ،سماجی اور سیاسی تبدیلیوں پر ایک نگاہ ڈالی جائے تاکہ توقعات پر پانی پڑنے سےمایوس کم ہو۔

موجودہ قیادت سعودی عرب کوایسے معاشی خطوط پر استوار کرنا چاہتی ہے جس کا انحصار تیل پر کم سے کم ہو۔ اپنی معاشی طاقت، جغرافیائی محل وقوع اور مسلم دنیا میں اپنی حیثیت کی بنیاد پر جونہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر اہم کردار ادا کرنے قابل ہوسکے۔ چنانچہ سیاحت کے لیے ملک کو کھولا جارہاہے۔ کاروبار اور تجارت کے مواقعوں میں اضافہ کیا جارہاہے۔ اس پس منظر میں ویژن 2030 ء متعارف کرایا گیا ہے۔ جس کے اجزائے ترکیبی میں ایک متحرک معاشرہ کا قیام، مضبوط معیشت اور ایک پرجوش قوم شامل ہے۔
محمد بن سلمان کے زمام کار سنبھالے کے بعد سعودی عرب میں اہم حکومت عہدوں پر ایک نوجوان نسل فائز ہوچکی ہے۔سعودی عرب کی ترقی اور مضبوطی میں پاکستان کے کردار اور دونوں ممالک کے درمیان عشروں پر محیط برادرانہ تعلقات سے پوری طرح باخبر نہیں ۔ ان میں سے بیشتر نے 9/11 کے امریکی دفاعی اور تجارتی تنصیبات پر ہونے والے المناک حملوں کے بعد مغربی میڈیا کے ذریعے پاکستان کے بارے میں معلومات حاصل کی ہیں کیونکہ زیادہ تر انہی ممالک میں زیر تعلیم تھے۔ خلیجی ریاستوں کے میڈیا میں بھارتی اثرورسوخ بھی غیر معمولی ہے،جو پاکستان کو ایک خطرناک ملک کے طور پر پیش کرتا ہے۔

اس تناظر میں پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ بہتر تعلقات جاری رکھنے کے لیے اقتصادی اور سیاسی ہم آہنگی کے لیے نئی راہیں تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔عمومی طور پر پاکستان اور سعودی عرب کے دوطرفہ تعلقات زیادہ تر دفاعی یا تزویراتی نوعیت کے رہے ہیں۔ پاکستان سعودی فوجیوں کو عسکری تربیت فراہم کرتا ہے۔اس کی فوج بھی سعودی عرب میں تعینات ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کی عسکری قیادت نے دوطرفہ تعلقات کومضبوط بنانے اور دونوں ممالک کو قریب لانے میں سرگرم کردار ادا کیا ہے۔لیکن یہ کافی نہیں۔ یہ یاد دہانی ضروری ہے کہ سعودی عرب کی مالی امداد اب اس کے عالمی نقطہ نظر اور علاقائی حکمت عملیوں کے لیے غیر مشروط حمایت کا تقاضہ کرتی ہے۔اعلیٰ عہدوں پر موجود متعدد پاکستان نواز سعودی رہنما اب پس منظر میں جاچکے ہیں اور نوجوان سعودی حکام بزنس ایگزیکٹیو کی طرح کام کرتے ہیں۔ مالی امداد کی درخواستوں کے جواب میں وہ استفسار کرتے ہیں کہ سعودی مالی مدد کے بدلے میں پاکستان ہمارے لیے کیا کرے گا؟ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ مضبوط اقتصادی تعلقات ہی ریاستوں کے درمیان پائیدار تعلقات کے لیے جامع فریم ورک فراہم کرتے ہیں۔ محض مذہبی، تاریخی اور ثقافتی رشتوں کی بنیاد پر سعودیوں سے اقتصادی اور سفارتی حمایت کی توقع کرنا اب عبث ہے۔

پاکستان کو سعودی عرب کے لیے سرمایہ کاری کا پرکشش مقام بنانے اور اس کے ساتھ سٹرٹیجک شراکت داری کو قابل عمل اوردونوں ممالک کے لیے منافع بخش بنانے کے لیے پاکستان کو اپنے معاشی اور ادارہ جاتی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ سعودی عرب نے 2019 میں پاکستان میں بھاری سرمایہ کاری کرنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن روایتی سست روی اور فرسودہ قوانین کے باعث اسے عملی جامہ نہ پہنایا جا سکا۔سعودی حکام کا کہنا ہے کہ بڑے تجارتی لین دین کو سنبھالنے اور چلانے کی پاکستان کی تکنیکی صلاحیت محدود ہے۔ جس کی وجہ سے وہ سعودی سرمایہ کاری سے فائدہ نہ اٹھاسکا۔
پاکستان کو سعودی عرب میں مقیم یا وہاں کام کی غرض سے جانے کے خواہش مند شہریوں کو ہنر مند بنانے پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ تعمیراتی اور اقتصادی منصوبے سعودی ویژن 2030 کا بغور جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ ان منصوبوں کے مطابق پاکستانی شہریوں کو مناسب ہنر کی تربیت دی جاسکے۔

امریکہ اور ایران بتدریج ایک معاہدہ کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ معاہدے کے بعد ایران خطے میں بڑا کردار ادا کرنے کے قابل ہوجائے گا جو سعودی عرب کو قبول نہیں۔چین کے ساتھ بڑتی ہوئی کشیدگی اور روس کو سبق سیکھانے کے ارادوں نے امریکہ کو مجبور کیا ہے کہ وہ مشرق وسطی سے اپنی فورسز نکالے اور ساری توجہ ایشیا پیسفک پر دے، جہاں وہ چین کو الگ تھلگ کرنے ، اس کی معاشی ناکہ بندی اور تجارتی روابط کو توڑنے کی کوشش میں ہے۔ متحدہ عرب امارات سمیت کئی ایک ممالک اسرائیل کے ساتھ سفارتی اورتجارتی تعلقات بحال کرچکے ہیں تاکہ وہ ایران سے لاحق خطرات کا مقابلہ کرسکیں۔

امریکہ کی نئی ترجیحات بدولت خطے میں طاقت کا ایک خلاپیدا ہورہاہے جسے پاکستان آسانی سے پر کرسکتاہے۔ پاکستانی فوج 1980 کی دہائی سے سعودی عرب میں تعینات ہے۔ سعودی مسلح افواج کو تربیت دینے اور ہتھیاروں کی فراہمی وغیرہ کے حوالے سے مزید مدد فراہم کی جاسکتی ہے۔
اسلامی تعاون تنظیم یعنی او آئی سی مسلم دنیا کی لیڈرشپ کو ایک پلیٹ فارم کرتی ہے۔ اس فورم پر پاکستان اور سعودی عرب نے کئی ایک ایشوز پر مل کر اور ہم آہنگی کے ساتھ کام کیا ہے۔ مثال کے طور پر فلسطین، کشمیر، روہنگیا مسلمانوں اور اسلامو فوبیا جیسے ایشوز پردونوں ممالک یک زبان رہے ہیں۔ اگست 1990ء سے او آئی سی کے وزرائے خارجہ کانفرنس نے کشمیر کے حق میں 27 قراردادیں منظور کیں۔ جن میں کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ کے پرامن حل پر زور دیا گیا۔ یہ سب سعودی عرب کی بھرپورحمایت کے بغیر ممکن نہ تھا۔ دونوں ممالک کو اس فورم کو مزید متحرک بنانا چاہیے تاکہ مسلم دنیا کو درپیش مسائل اور چیلنجز کا مل کر مقابلہ کیا جاسکے۔

اللہ تعالے نے خیر کی تو محمد بن سلمان جلد پاکستان آئیں گے۔ گوادر میں 10-12 بلین ڈالر کے پیٹرو کیمیکل ریفائننگ منصوبے کا بھی اعلان ہوگا۔
پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ۔

Comments are closed.