کل جماعتی حریت کانفرنس پر پابندی کاامکان

تحریر: محمد شہباز

اسلام آباد: بھارت میں نریندر مودی کا دوسرا دور اقتدار جاری ہے،2014 میں مودی بھارت کی وزارت عظمیٰ کی کرسی پر براجمان ہوا اور اسے اقتدار میں لانے کیلئے بھارت میں باضابطہ طور پر ایک مہم چلائی گئی ، اس کے پیچھے مقصد بھارت میں ہندئوں کی بالادستی کے خواب کو عملی جامہ پہنانا تھا،اگرچہ مودی کے اقتدار میں آنے کو خطہ غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے بھارتیوں کی زندگیوں میں انقلاب لانے کی نوید سنائی گئی تھی،مگر جیسے کہ ہر چمکنے والی چیز سونا نہیں ہوتی ، اصل مودی بھگت کی شکل میں نمودار ہوا جوبھارتیوں کی زندگیوںمیں انقلاب تو نہیں آسکا البتہ مشکلات و مصائب نے ان کے دروازوں پر دستک ضرور دی ہے۔

نریندرمودی کے پہلے دور حکومت میں ہندو انتہا پسند وں نے بلوں سے نکل کر مسلمانوں اور دلتوں کے خلاف کاروائیوںکا آغاز کیا،لیکن مودی کے دوسرے دور حکومت کے شروع ہوتے ہی بھارتی ہندو انتہا پسندجہاں مسلمانوںپر ٹوٹ پڑے وہیں مودی بھی اپنے اصل روپ میں سامنے آئے،مودی نے تین بڑے کام کروائے جو برصغیر کی تقسیم سے لیکر اج تک ناممکن تھے،سب سے پہلے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو 5 اگست 2019ء میں بیک جنبش ختم کیا گیا،مقبوضہ کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرکے صدیوں پرانی اس ریاست کا شیرازہ بکھیر دیا گیا۔80 لاکھ کشمیریوں کو اپنے گھروں میں محصور کرکے ان پر فوجی محاصرہ مسلط کیا گیا۔مودی کے ان ظالمانہ اقدامات نے لاکھوں کشمیریوں کو بے روز گار،یہاں کی معیشت کا جنازہ نکال دیا،اس سے قبل جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر پر پابندی عائد کرکے جماعت اسلامی کے زیر اہتمام برسوں سے چلنے والے تعلیمی اداروں کو سر بمہر اور امیر جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر ڈاکٹر عبدالحمید فیاض سمیت جماعت کے سینکڑوں رہنماوں اور کارکنوں کو گرفتار کرکے بھارتی عقوبت خانوں میں بند کیا گیا،حال ہی میں بدنام زمانہ بھارتی ایجنسی، ،این آئی  اے ،،نے مقبوضہ کشمیر میں درجنوں مقامات پر جماعت اسلامی کے اراکین اور رہنماوں کے گھروں اور دفاتر پر ایک ساتھ چھاپے مار کردستاویزات،موبائل اور لیپ ٹاپ اپنی تحویل میں لیے۔

نومبر2019 میں ہی بھارتی سپریم کورٹ کے ذریعے تاریخی بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کروانے کا عدلیہ کی تاریخ کا بدترین فیصلہ کروایا گیا،جس سے دنیا بھر کے انصاف پسندوں نے انصاف پر دھبہ قرار دیا،یہ فیصلہ دینے والے بھارتی سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس رنج گوئی گوئی کو بھارتی لوک سبھا کا ممبر بنوایا گیا،جس سے خود بھارتی اپوزیشن جماعتوں اور دانشوروں نے ایک بھونڈے مذاق سے تعبیر کیا،مودی نے اسی پر بس نہیں کیا،بلکہ شہریت ترمیمی بل کے نام پر بھارتی مسلمانوں کو دیوار کے ساتھ لگایا گیا۔بھارتی مسلمانوں نے اس ظالمانہ طرز عمل پر جب ردعمل کا اظہار کیا تو فروری 2020 میں بھارتی دارالحکومت دہلی میں ایک اور مسلم کش فساد میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی گی،مسلمانوں کی جائیداد و املاک کے ساتھ ساتھ مساجد،خانقاہوں اور درگاہوں کو نقصان پہنچانے کے علاوہ قبرستانوں کو بھی نہیں بخشا گیا۔پھر بھارتی کسانوں کی باری آئی،ان کے خلاف ظالمانہ قوانین بنائے گئے،جس پر بھارتی کسانوں نے پورے بھارت میں احتجاج اور دھرنوں کا سلسلہ شروع کیا،جس میں اب تک درجنوں کسان موت کے منہ میں جاچکے ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں پوری ازادی پسند قیادت کو گرفتار کرکے انہیں بھارت کی دور دراز اور بدنام زمانہ جیلوں میںمقید کیا گیا،جہاں انہیں زندگی کی تمام بنیادی سہولیات سے محروم اور عملاانہیں بھارتی جیلوں میں مرنے کیلئے رکھا گیا ہے،تحریک ازادی کے سرکردہ رہنما اور قربانیوں کی لازوال داستان رکھنے والے جناب محمد شرف صحرائی کی جیل کے اندر ہی شہادت واقع ہوئی ہے،اور ان کی شہادت کو حراستی قتل قرار دیا جاچکا ہے۔ان تمام تر مظالم اور ظلم و بربریت کے باوجود اہل کشمیر بھارت کے سامنے سر تسلیم خم کرنے پر آمادہ نہیں ہوئے تو اب کل جماعتی حریت کانفرنس پر پابندیاں عائد کرنے کی تیاریاں اور منصوبہ بنایا جاچکا ہے تاکہ اہل کشمیر کی اس آخری آواز کو بھی خاموش کرایا جائے۔

 نریندر مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کی طرف سے کل جماعتی حریت کانفرنس اور میر واعظ عمر فاروق کی سربراہی میں قائم حریت فورم کی تحریک آزادی کی آوازکودبانے کیلئے ان پر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام سے متعلق کالے قانون یو اے پی اے کے تحت پابندی عائد کئے جانے کا امکان ہے۔قابض بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ کل جماعتی حریت کانفرنس اور حریت فورم پر یو اے پی اے کی دفعہ (1)3 کے تحت پابندی لگائی جا سکتی ہے ۔ قابض حکام کا کہنا ہے کہ پابندی عائد کرنے کی یہ تجویز کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کے مطالبے کے خلاف بھارتی پالیسی کے مطابق پیش کی گئی ہے۔یاد رہے کہ مودی حکومت نے اب تک جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر اور جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ پر 2019 میں یو اے پی اے کے تحت ہی پابندی عائد کی ہے۔ ایک اور کیس جس کا حوالہ کل جماعتی حریت کانفرنس پر پابندی کے لیے دیا جا سکتا ہے وہ محبوبہ مفتی کی جماعت پی ڈی پی کے نوجوان رہنما وحید الرحمان پرہ کے خلاف ہے ، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے مجاہدین کے ساتھ روابط رکھے تھے۔ حریت رہنماوں ،تنظیموں اورامور کشمیر کے ماہرین کا کہناہے کہ بھارتی حکام کل جماعتی حریت کانفرنس کو بدنام کرکے کشمیری عوام کی آزادی کی آواز کو خاموش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ حریت جماعتوں کے خلاف بھارتی الزامات میں کوئی حقیقت نہیں ہے اوران کی جدوجہد ہمیشہ پرامن اور شفاف رہی ہے۔ ترجمان نے حریت کانفرنس پر پابندی عائد کیے جانے کے بھارت کے ممکنہ فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ قابض انتظامیہ نے پورے مقبوضہ کشمیر میں حریت رہنماوں اور کارکنوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاری کی دھمکی دی ہے۔ اقوام متحدہ کوچاہیے کہ وہ بھارت کو کل جماعتی حریت کانفرنس کی پرامن سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے سے روکے۔کل جماعتی حریت کانفرنس پر پابندی کے ہتھکنڈوں سے کشمیری عوام کی حق خود ارادیت کے حصول کی تحریک آزادی کو آگے بڑھانے سے نہیں روکا جاسکتا۔ اگر بھارت نے کل جماعتی حریت کانفرنس پر پابندی عائد کی تو بھارت کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی تحریک شروع ہو جائے گی۔یقینا مودی حکومت کشمیری عوام کی سیاسی آواز کو اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔

کل جماعتی حریت کانفرنس آزادجموں وکشمیرشاخ کے کنویئر محمد فاروق رحمانی نے ایک بیان میں حریت کانفرنس پر من گھڑت اور جھوٹے الزامات عائد کرنے پر بھارت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے سفید جھوٹ اسکی بوکھلاہٹ کو ظاہر کر رہے ہیں۔بھارت کے کالے قوانین اور اور ماورائے آئین احکامات ناقابل قبول ہیں اور کشمیر ی اس طرح کے شرمناک اور غیر جمہوری اقدامات کے باوجود اپنی پرامن تحریک آزادی جاری رکھیں گے۔ اقوام متحدہ اور اور دیگر عالمی اداروں سے اپیل ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی نئی پیش رفتوں کا نوٹس اور بھارت کو کل جماعتی حریت کانفرنس پر پابندی سے بازرکھیں۔

کشمیری عوام کی مزاحمتی تحرک کودبانے کے لئے مقبوضہ جموں وکشمیر کی سڑکوں اور گلیوں میں دس لاکھ بھارتی درندے گشت کر رہے ہیں جس میں وہ مکمل طور پرناکام ہو چکے ہیں۔ تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کی ضمانت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں دی جاچکی ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں دوران حراست قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات ،بنیادی حقوق سے محرومی کے باوجود تحریک مزاحمت کے لئے کشمیری عوام کی بھرپور حمایت سے قابض بھارتی فوجی بوکھلاہٹ کا شکارہوچکے ہیں۔

بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خاتمے کیلئے برسر پیکار کشمیری عوام متحد ہوکر بھارتی مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے تیار ہیں۔ کشمیری اپنی جدوجہد کو مضبوط ارادوں کے ساتھ آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔ مسئلہ کشمیر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے نہ کہ بھارت کا اندرونی معاملہ۔مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس پر پابندی کے مودی کے منصوبے بھارت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوں گے۔ فسطائی مودی حریت قیادت کو بدنام کرکے تحریک ازادی کشمیر کی توانا آواز کو خاموش کرنے کی کوشش کر رہاہے ۔ کل جماعتی حریت کانفرنس اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے تحریک ازادی کی قیادت کر رہی ہے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر ازادی پسند تنظیمیں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حق خود ارادیت کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔

 حریت کانفرنس پر پابندی کا بھارتی منصوبہ کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کو دبانے کے لیے اس کی مایوسی کی عکاسی کرتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس اہل کشمیر کی امنگوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ کشمیری سختی سے ظالمانہ بھارتی قانون: یو اے پی اے:کے تحت حریت کانفرنس پر پابندی کے بھارتی منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میںگزشتہ 7 دہائیوں سے زائد عرصہ سے بھارتی مظالم اور جنگی جنون کی وجہ سے خون خرابہ جاری ہے۔ ماورائے عدالت قتل ، حراستی تشدد ، فرضی جھڑپیں اور لوگوں باالخصوص نوجوانوں کی گرفتاریاں مقبوضہ کشمیر میں معمول بن چکی ہیں، بھارتیوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ فوجی طاقت نے کبھی بھی کسی قوم کو سر تسلیم خم کرنے پر مجبور نہیں کیا۔ اہل کشمیر کا بھارتی حکمرانوں کو پیغام ہے کہ ظلم و جبر ترک کریں اور تاریخ سے سبق سیکھیں۔ بھارت کے مذموم ہتھکنڈے کشمیری عوام کو ان کی منصفانہ جدوجہد سے باز نہیں رکھ سکتے۔ دنیا کو مقبوضہ کشمیر میں انسانیت کے خلاف بھارتی جرائم کا نوٹس لینا چاہیے ۔

barbarity of Indian soldiers in Kashmir-News Diplomacy

مقبوضہ جموں و کشمیر میں تحریر وتقریر اور ذرائع ابلاغ کے علاوہ لوگوں کے ایک جگہ جمع ہونے کی آزادی پر پابندی عائد ہے۔ اقوام متحدہ کو بھارت کی جانب سے حریت کانفرنس کی پرامن سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے سے باز رکھنے میں مداخلت کرنی چاہیے۔ کشمیری اپنی جدو جہد آزادی میں فاتح بن کر ابھریں گے۔بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنے مذموم عزائم میں ناکام ہو جائے گا۔ اہل کشمیرکا عزم بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرے گا۔

Comments are closed.