ٹرمپ کو الیکشن سے پہلے بڑا دھچکہ ، خواب چکنا چور

بین الاقوامی سیاست اور خارجہ امور پر گہری نظر رکھنے والے سینئر صحافی عیسٰی حسن نقوی نے عالمی سطح پر ہونے والی بڑی تبدیلیوں اور امریکا چین کشیدگی سے متعلق چند اہم حقائق بیان کیے ہیں۔

 سوشل میڈیا پر اپنی وی لاگ میں  عیسی ٰ نقوی نے کہاکہ امریکی صدارتی انتخابات قریب آتے ہی امریکی میڈیا یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ا لیکشن مہم کے دوران کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد کیا اور یہی وجہ ہے کہ ان کی شہرت میں اضافہ ہواہے۔ بعض امریکی ماہرین یہ تاثر بھی دے رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ نے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان معاہدہ کروایا جس پر 15 ستمبر کو وائٹ ہاؤس میں دستخطوں کی باقاعدہ تقریب ہوگی۔

عیسیٰ نقوی کے بقول حکومت کے ہم خیال ماہرین سمجھتے ہیں کہ اسرائیل اور یو اے کے درمیان معاہدہ ایک تاریخی اقدام ہوگا اور اس سے ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے امکانات مزید روشن ہو سکتے ہیں، اگر ٹرمپ دوبارہ امریکی صدر منتخب ہو جاتے ہیں تو وہ اسرائیل کے حوالے سے اپنے اثرو رسوخ کو دیگر عرب ممالک اور مشرق وسطیٰ میں بڑھا سکیں گے اس کے لئے وہ اپنے داماد کیساتھ بیک ڈور ڈپلومیسی کا سہارا لیں گے۔

Activity - Insert animated GIF to HTML

 عیسیٰ نقوی کے مطابق اس تمام تر صورتحال میں دنیا نے دیکھا کہ امریکی صدر بننے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ ایک شاطر اور چالاک سیاستدان کی طرح اپنی مستقبل کی منصوبہ بندی کرتے رہے، انہوں نے چین کےگرد اپنی الیکشن مہم بنائی اور اپنے مخالف صدارتی امیدوار جوبائیڈن کی تقریر پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔ صدر ٹرمپ نے چالاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جوبائیڈن کی پالیسی کو ’میڈ ان چائنا‘ جبکہ اپنی پالیسی کومیڈ ان امریکہ قرار دیا۔

یوٹیوب چینل پر اپنے تجزیئے میں عیسیٰ نقوی کا کہناہے کہ امریکا کو پوری دنیا میں اگر کسی سے خطرہ ہے تو وہ صرف چین ہے، امریکی معیشت ہو یاسیکیورٹی، چین ہی امریکہ کے مد مقابل کھڑا ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا چین کو ایک ویلن کے طور پر سامنے لارہا ہے اور صدر ٹرمپ خود کو امریکی مفاد کے محافظ کے طور پر پیش کر رہے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ اپنے مخالف امیدوار جوبائیڈن کو کمزورشخص کے طور پر دکھایا جارہا ہے۔ ٹرمپ امریکی شہریوں کو یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جوبائیڈن چین کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔

 دوسری جانب صدر ٹرمپ نے چین کے ساتھ باقاعدہ تجارتی جنگ شروع کرتے ہوئے نئے ٹیرف متعارف کرائے، کورونا وباء کے بعد چین کے خلاف نسل پرستانہ بیانات دیئے اور اپنی تقاریر میں کورونا وائرس کو ووہان وائرس تو کبھی چینی وائرس کہہ کر تنقید کا نشانہ بنایا۔ چین کے خلاف عالمی دباؤ بڑھانے کے لئے عالمی ادارہ صحت کی فنڈنگ ختم کی اور اتحادی ممالک کے ذریعے بھی عالمی ادارہ صحت پر حملے کروائےگئے ۔بات یہیں ختم نہیں ہوئی ، امریکا نے چین کو معاشی طور پر نقصان پہنچانے کے لیے امریکی کمپنیوں کو چین سے اپنے کاروبار بند کر کے واپس آنے تک کا کہہ دیا۔

عیسیٰ نقوی کہتے ہیں کہ امریکا نے ہانگ کانگ، تائیوان کا اور تبت کے معاملے پر بھی چین کی مخالفت کی اس کے ساتھ بھارت اور چین کے درمیان کشیدگی کے معاملے پر بھی کھل کر بھارت کی حمایت کی۔ دوسری جانب یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ تجارت امریکا اور چین کے مابین ہوتی ہے اور یہ عالمی تجارت کا 17 فیصد ہے۔

اس تناظر میں امریکی کمپنیاں چین میں اپنے آپریشنز بند کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتیں کیونکہ چین میں پیداواری لاگت کم اور کھپت بہت زیادہ ہے، امریکی کمپنیوں کا ماننا ہے کہ اگر امریکا سمیت دیگر بین الاقوامی منڈیوں تک انہیں رسائی نہ بھی دی جائے تو چین کی مارکیٹ اتنی بڑی ہے کہ ان کا کاروبار چلتا رہےگا۔ اس صورت میں امریکی صدر چین کی معیشت کا گلہ دبانے کی اپنی خواہش پوری کرنے سے قاصر ہیں۔

اس تمام تر صورتحال میں چین کے خلاف ٹف مین بننے کی امریکی صدر کی مہم ناکام ہو گئی، کیونکہ جو شخص اپنے ملک کی کمپنیوں کو قائل کرنے میں ناکام رہا اور اس کے کاروباری طبقے نے اس کی پالیسی مسترد کر دی وہ شخص ایک سپرور کا وجود کیسے برقرار رکھ سکے گا۔ا مریکی تھنک ٹینکس کےمطابق یہ جنگ امریکی معیشت کی نہیں بلکہ اس کے استحکام کی ہے ، نئے امریکی الیکشن سپر پاور کے مستقبل کے حوالے سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، امریکہ کب تک چین کو دنیا کی نئی سپر پاور بننے سے روک سکتا ہے ، مستقبل کا نقشہ بھی آئندہ چار سال بعد بڑی حد تک واضح ہوجائےگا۔

Comments are closed.