چین نے سنکیانگ کے خلاف جرمن میڈیا کی خبر کومسترد کردیا

 بیجنگ: چین نے سنکیانگ کے خلاف جرمن میڈیا کی خبر کومسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین سے دشمنی رکھنے والے ایک جرمن اخبار کی یک طرفہ رپورٹنگ قابل مذمت ہے، چینی حکومت نے لاک ڈاون  جیسے  موثر اقدامات سے کورونا  کیسزپر قابو پالیا۔

چائنہ اکنامک نیٹ  کے مطابق جرمن ریاستی میڈیا آوٹ لیٹ ڈوئچے ویلے کی حال ہی میں لاک ڈاون کے نام پر سنکیانگ ڈیجیٹل پولیس اسٹیٹ’ بن گیا ہے کے عنوان سے شائع ہونے والی خبریں چین کے خلاف ایک اور جھوٹ اور سازش تھی ، ان خبروں میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ سنکیانگ میں لاک ڈاون کے نام پر وسیع نگرانی کی جارہی ہے، جس نے سنکیانگ کے خود مختار خطے کو ‘ڈیجیٹل پولیس اسٹیٹ’ بنا دیا ہے۔

سی ای این کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر کے بہت سارے ترقی یافتہ ممالک اس وقت کورونا وائرس کے خلاف چین کے ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم کو اپنا رہے ہیں ،جنوبی کوریا سے لے کر سعودی عرب تک ہر جگہ مشتبہ کورونا مریضوں پر موبائل ایپس کے ذریعے نظر رکھی جارہی ہے اور اس کا واحد مقصد ایک ہی مریض کی لاپرواہی سے کورونا کے پھیلاو  کو روکنا ہے۔لہٰذا مغربی میڈیا کیلئے کام کرنے والوں کی جانب سے ، "ڈیجیٹل پولیس” پر معمول کی روک تھام اور کنٹرول کے اقدامات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا دوہرے معیار کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

Activity - Insert animated GIF to HTML

کورونا وائرس کے باقاعدگی سے کیسز ہونے والا دنیا کا پہلا ملک ہونے کے ناطے چینی حکومت نے شہروں میں لاک ڈاون کے لئے سخت لیکن موثر اقدامات سے ان کیسزپر قابو پالیا جس نے قلیل وقت میں کورونا وائرس کے پھیلاو پر قابو پانے میں مدد کی اور اس کے نتیجے میں معاشی بحالی ممکن ہوئی۔وہ ممالک جنہوں نے لاک ڈاو ن کو نہیں سمجھا ، جیسے امریکہ وہاں پرکورونا وائرس کی صورتحال کتنی خراب ہے اس بات کا تعین کرنے کے لئے زیادہ تحقیق کی ضرورت نہیں ہے۔

اس خبر میں چین نے طبی اخلاقیات کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے اور اس الزام کو تین افراد کے بیانات پر مبنی قرار دیا ہے ، جنہوں نے مبینہ طور پر سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا تھا کہ انہیں چینی روایتی دوا دی گئی ہے۔اخبار  نے اپنے ذرائع کا انکشاف نہیں کیا جو خبروں کے بنیادی اصولوں کے مستند ہونے کے منافی ہے اور اس کی تصدیق کی جاسکتی ہے۔لہذا صحافتی اصولوں اور معیار کو نظر انداز کرتے ہوئے چین سے دشمنی رکھنے والے ایک جرمن اخبار کی یک طرفہ رپورٹنگ قابل مذمت ہے۔اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی مدد اور سرپرستی کے ساتھ ،چین کے بارے میں جھوٹ بلا روک ٹوک اور وسیع پیمانے پر جاری رہے گا۔

Comments are closed.