ایل او سی کو بھی آتشیں اسلحہ سے پاک کیا جائے

تحریر: دانش ارشاد

ایک اور کلی اس خونی لکیر کا شکار ہوگئی، لائن آف کنٹرول پر تتہ پانی درہ شیرخان سیکٹر میں بھارتی فوج کی بلااشتعال گولہ باری کے نتیجہ میں شدید زخمی ہونے والی بچی گیارہ سالہ اقراء  زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئی۔

چین اور ہندوستان کے درمیان تقریباً چار ہزار کلومیٹر لمبی سرحد (لائن آف ایکچوئل کنٹرول سمیت) پر دونوں ممالک کی افواج موجود ہیں۔کیا آپ نے کبھی سنا کہ چین اور ہندوستان کے سرحدی علاقوں میں کشیدگی کے باعث فائرنگ ہوئی ہو؟ (حالانکہ حالیہ کچھ عرصے سے چین اور ہندوستان کے درمیان شدید کشیدگی ہے اور شاید ایک مرتبہ فائر ہوا) کبھی نہیں سنا ہو گا کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان یہ طے ہے کہ فرنٹ لائن پر جو بھی فوجی تعینات ہوں گے ان کے پاس ہتھیار نہیں ہوں گے اور رینک کے مطابق افسروں کے پاس بندوقیں ہوں بھی تو ان کی نالی کا رخ زمین کی جانب ہو گا۔

اس لئے چین اور ہندوستان میں اگر تناؤ کی صورتحال پیدا ہو جائے تو سرحدوں پر فوجی کشتی لڑتے, آہنی راڈز اور ڈنڈوں کا استعمال کرتے نظر آتے ہیں یا ایک دوسرے پر پتھراؤ کرتے ہیں، ایسا اس لیے ہے کہ انڈیا اور چین کے درمیان ایک ایسا معاہدہ ہے جس کے مطابق دونوں کے درمیان کتنا ہی تناؤ کیوں نہ ہو، دونوں سرحد پر جھڑپوں سے بچیں گے۔

Activity - Insert animated GIF to HTML

یہ معاہدہ اٹل بہاری واجپائی کے دور میں ہوا اور منموہن سنگھ نے بھی اس کی توثیق کی تھی، واجپائی کے دور میں ایسا ہی ایک معاہدہ مشرف کے ساتھ ہوا تھا لیکن پاک بھارت سرحدوں کو اسلحہ سے پاک نہ کیا گیا اور نہ ہی زیادہ دیر اس معاہدے کی پاسداری کی جا سکی.

آج اگر انڈیا اور چین سرحدوں کیطرح پاک بھارت سرحدیں بھی اسلحہ سے پاک ہوں تو شدید تناؤ میں بھی انسانی جانوں کا ضیاع نہیں ہو گا، اگر خطے میں اپنی چودھراہٹ قائم کرنے کا خواب دیکھنے والے دو ملک اپنی سرحدوں کو اسلحہ سے پاک کر سکتے ہیں تو پاکستان اور ہندوستان کا سرحدی علاقہ بالخصوص لائن آف کنٹرول کو اسلحہ سے پاک کیوں نہیں کیا جا سکتا؟

یہ تصویر آج لائن آف کنٹرول پر ہندوستانی فائرنگ سے جانبحق ہونے والی ایک لڑکی کی ہے، اس وقت پاکستان زیر انتظام جموں و کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر تقریبا ایک لاکھ دس ہزار خاندان یعنی 6 لاکھ افراد رہتے ہیں جو بے یقینی کی زندگی گزار رہے ہیں. انہیں یہ علم نہیں ہوتا کب شیلنگ شروع ہو جائے اور کب ختم ہو گی، اور اس خوف میں کیسے زندگی گزرتی ہے اس کا اندازہ نارمل زندگی گزارنے والے نہیں کر سکتے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.