وزٹ کشمیر، نجی کمپنی نے آزادکشمیر میں سیاحت کے فروغ کا بیڑہ اٹھالیا

اسلام آباد:آزاد کشمیر میں سیاحت کے فروغ کے لیے نجی کمپنی ایم ٹی بی سی نے کروڑوں روپے کا منصوبہ شروع کردیا ۔سیاحوں کو آزاد کشمیر کے پُرفضاء سیاحتی مقامات کی جانب راغب کرنے کے لئے فضائی سروس بھی شروع کی جائے گی۔ ایم ٹی بی سی نے سیاحت کے فروغ کے لیے وزٹ کشمیر کے نام سے کمپنی بھی قائم کرلی ۔

ذرائع کے مطابق اس مقصد کے لئے محکمہ سیاحت کے کئی گیسٹ ہاوسز بیس سال کے لئے لیز پر لے لیے گئے ہیں۔دھیرکوٹ کے سیاحتی مقام نیلہ بٹ اور دھیرکوٹ شہر میں آٹھ کنال پر قائم سرکاری گیسٹ ہائوس اور فیملی ہٹس کی تزئین ومرمت کا کام تیزی سے جاری ہے۔ان گیسٹ ہاوسز میں سنٹرلائزڈ ہیٹنگ سسٹم نصب کیا جا رہا ہے۔

آزاد کشمیر کے انتہائی پُر فضا مقامات پر محکمہ سیاحت اور پی ڈبلیو ڈی کے گیسٹ ہاوسز موجود ہیں لیکن ان میں سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔2008 میں تعمیر ہونے والے ان یہ گیسٹ ہاوسز کی ٹائلیں اکھاڑی گئیں تو ان کے نیچے کنکریٹ کی بجائے کچی مٹی نکلی۔ باغ میں بی ڈی اے کا گیسٹ ہاوسز جو چند سال پہلے بنا تھا وہ بھی کمپنی نے لیز پر حاصل کرلیاہے ۔

آزادکشمیر دنیا بھر کے سیاحوں کے جنت سے کم نہیں۔یہاں چاروں موسم، بلند وبالا پہاڑ، سرسبز وشاداب جنگلات اور درجنوں تفریح مقامات ہیں۔ ا ن میں وادی نیلم ، یہاں کی تاریخی شاردہ یونیورسٹی،شہنشاہ جہانگیر کے دور کا رانی باغ، لیہ ویلی ، پیر چناسی ، گنگا چوٹی ، لسڈنہ،حاجی پیر،نیل فیری ،چکار جھیل، منگلا ڈیم وقلعہ ، تولی پیر ، پنجوسہ کےنام سے مشہور جھیل ( حال چھوٹا گلہ جھیل ) اور جنڈالی سمیت دہل کو موہ لینے والے مقامات شامل ہیں، تاہم سہولیات کے فقدان کے باعث یہاں کی قدرتی خوبصورتی اور ٹورازم انڈسٹری کے پو ٹینشل سے فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔

ایم ٹی بی سی کے مالک محمودالحق کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد پیسے کمانا نہیں بلکہ آزاد کشمیر کے خوبصورت مقامات کو دنیا بھر میں متعارف کروانا اور سیاحت کا فروغ ہے۔

 

حکومت آزادکشمیر نے سیاحتی مقامات پر بھی ٹورسٹ ریسٹ پلیسز بھی بنائی تھیں جو خستہ حالی کا شکارہیں ۔ حکومت آزادکشمیر نے انہیں لیز پر دینے کے لیے کئی ماہ پہلے اشتہار بھی جاری لیکن تاحال اس پر کوئی پیشرفت نہ ہو سکی ۔آزاد کشمیر میں ٹورسٹ کوریڈورکا منصوبہ بھی سیاسی نعرہ ہی ثابت ہوا۔

Comments are closed.