بریگزیٹ کے بعد کا برطانیہ کیسا ہو گا ؟

وسیم عباس طور، نمائندہ خصوصی مانچسٹر

بریگزٹ یعنی برطانیہ کا یورپی یونین سے انخلا۔۔۔گزشتہ چار برسوں میں بریگزیٹ نے برطانوی سیاست کو الٹ پلٹ کر رکھ دیا ہے۔ برطانیہ میں اس مدعے پر ایک ریفرنڈم دو جنرل الیکشن اور تین وزرائے اعظم تبدیل کئے جانے کے بعد 31 جنوری کو برطانیہ نے یورپی یونین سے اپنی 30 سالہ رفاقت ختم کر دی۔

ہم جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ یورپی یونین سے علیحدگی کے فورا بعد برطانیہ میں کیا کچھ تبدیل ہونے جارہا ہے۔ برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے فوری بعد گیارہ ماہ کا ایک ٹرانزشن پیریڈ شروع ہو جائے گا،یعنی کہ اکتیس جنوری کو شروع ہونے والی بریگزٹ ڈیل 31 دسمبر 2020 کو مکمل ہوگی جس کے دوران بہت سی قوانین تو یک لخت تبدیل ہو جائیں گے لیکن کچھ چیزیں  ویسی کی ویسی رہیں گی۔

بریگزیٹ کے ساتھ ہی برطانیہ سے تعلق رکھنے والے 73 سیاست دانوں کی یورپین پارلیمنٹ کی رکنیت فورا ختم ہوجائے گی۔ اس کے علاوہ برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن اور دیگر وزرا یورپی یونین کے کسی قسم کی کانفرنس میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔

Activity - Insert animated GIF to HTML

یورپی یونین کا ممبر ہونے کی وجہ سے ماضی میں انگلینڈ دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ انفرادی طور پر کوئی بھی تجارتی معاہدہ کرنے کا اہل نہیں تھا لیکن اب برطانیہ آزادانہ طور پرغیر یورپی ممالک سے مصنوعات کی خرید فروخت سمیت دیگر معاہدے کر سکے گا۔

یورپی یونین سے انخلا کے فورا بعد برطانوی پاسپورٹ کا رنگ سرخ سے تبدیل کر کے تیس سال بعد دوبارہ نیلا کر دیا جائے گا۔ برطانیہ میں نیلے رنگ کے پاسپورٹ کا اجرا 1921 میں کیا گیا جو 1988 تک جاری رہا۔

یہ تو کچھ ایسے معاملات تھے جو 31 جنوری کے بعد فوری طور پر تبدیل ہو جائیں گے لیکن کچھ معاہدئے اور قوانین ایسے بھی ہیں جو کم از کم 31 دسمبر 2020 تک جوں کی توں رہیں گے۔ یعنی آئندہ 11 ماہ تک یورپین شہری بغیر ویزہ شرائط کے ازادانہ طور پر برطانیہ کا سفر کرسکیں گے اسی طرح برطانوی شہریوں پر یورپ میں سفر کرنے کی کوئی پابندی عائد نہیں کی جائے گی۔

یورپ کا حصہ ہونے کی وجہ سے یورپین شہری اپنے آبائی ملک سے حاصل کئے گئے لائسنس پر برطانیہ میں ڈرائیونگ کے بھی اہل ہوں گے۔ تمام یورپی باشندوں کو انگلینڈ میں نوکری کرنے اورسکونت اختیار کرنے کی بھی مکمل اجازت ہوگی۔

ٹرانزشن پیریڈ کے دوران برطانیہ کو پورپی بجٹ فنڈ میں اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔ اسی طرح برطانیہ میں مقیم یورپی شہریوں کو ملنے والے فنڈز جاری رہیں گے جبکہ انگلینڈ اور یورپ کے درمیان تجارت بھی  بغیر کسی اضافی ٹیکس کے جاری رہے گی۔

Comments are closed.