کوروناوائراس بحران، اسپین میں سیاحت کی صنعت،اور روزگار خطرے سے دوچار

میڈرڈ۔مقامی میڈیا میں چھپنے والی رپورٹ کے مطابق ہسپانوی معیشت میں سیاحت ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔قومی شماریات انسٹی ٹیوٹ (آئی این ای) کے پیر کے روز شائع ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق جون کے مہینے میں صرف 204،926 بین الاقوامی سیاح اسپین پہنچے۔جو 2019 میں اسی مہینے کے مقابلے میں 97.7 فیصد کم تھا۔سال 2019 کے اس عرصہ میں 10.78ملین سیاح اسپین پہنچے تھےجوکہ 71.7فیصد کمی کو ظاہرکرتاہے۔

سیاحتی شعبے نے گذشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں سال کے پہلے نصف حصے میں 27.3 ملین سیاح اور 28.4 بلین ڈالر کی آمدنی کا نقصان اٹھایایےسال کے پہلے نصف حصے میں اسپین کے تمام خطوں میں سیاحت میں تیزی سے کمی ریکارڈ کی گئی ، بالئیرک جزیرے میں سیاحوں کی آمد 92.2٪ ، کاتالونیا میں 74٪ ، اندلس میں 72.5٪ اور میڈرڈ میں 63.8 فیصد کم ہوگئی ہے۔

سیاحت کا شعبہ کورونا وائرس کے باعث سفری پابندیوں کے نتیجے میں سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ مارچ کے وسط میں ہسپانوی حکومت نے لاک ڈاون کا اعلان کیا جس کےباعث اندرونی اور بیرونی سفر کو محدود کردیاگیا اس مہینے بین الاقوامی سیاحوں کی آمد میں دو تہائی کمی ہوئی۔ صورتحال اپریل اور مارچ میں سیاحوں کی آمد صفر ریکارڈ کی گئی۔ اسپین میں مجموعی گھریلو پیداوارجی ڈی پی میں سیاحت کا حصہ 11.9 فیصد ہے۔

Activity - Insert animated GIF to HTML

21 جون کو سرحدوں کو کھولنے کے باوجود سیاحر خئں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوسکا تاہم برطانیہ،ناروے جرمنی جیسے ممالک کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں نے اسپین کے سیاحتی شعبے کو بہت زیادہ متاثرکیاہے۔ماہرین نے سیاحتی شعبے میں 40 بلین ڈالر کے نقصان کی پیشین گوئی کی گئی یے اس کے علاوہ 750000افراد کی ملازمتیں بھی خطرے سے دوچارہیں

Comments are closed.