این اے 75 ڈسکہ :ریٹرننگ افسر کا 14پولنگ اسٹیشنز پردھاندلی کااعتراف،دوبارہ پولنگ کی سفارش

اسلام آباد:چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں این اے 75 ڈسکہ کے ضمنی انتخابات سے متعلق سماعت ہوئی ۔ ریٹرننگ افسر نے اعتراف کیا کہ 20 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج نہیں مل رہے تھے، 14 پولنگ اسٹیشنز میں دھاندلی کا خدشہ ہے ، ان پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کرائی جائے ۔ پریذائڈنگ افسران ،نتائج دینے آئے تو ان سے پوچھ گچھ کی،کچھ نے کہا گاڑی خراب ہوگئی ،کسی نے کہا موسم خراب تھا۔نون لیگ کا پورے حلقے میں دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کر دیا۔

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے این اے 75 ڈسکہ کے ضمنی انتخابات سے متعلق مسلم لیگ نون کی امیدوار نوشین افتخار کی درخواست کی سماعت کی۔ نوشین افتخار کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے استدعا کی کہ حلقے میں دوبارہ پولنگ کرائی جائے ، الیکشن کمیشن کی پریس ریلیز میں اعلیٰ ترین سطح پر دھاندلی کی نشاندہی کی گئی، یہ پہلا الیکشن ہے جہاں بیس ریٹرننگ افسران غائب ہوگئے، پولنگ کے دوران اور بعد میں آئی جی اور چیف سیکرٹری پنجاب سمیت سب ہی لاپتہ تھے، تمام لاپتہ پریزائیڈنگ افسران ایک ساتھ ہی سامنے آئے، جس ڈی ایس پی کو الیکشن کمیشن نے ہٹایا تھا اسے ایس پی بنا کر تعینات کیا گیا۔۔

این اے 75 کے ریٹرننگ افسر نے الیکشن کمیشن کے سامنے اپنی رپورٹ پیش کردی ۔ریٹرننگ افسر نے 14 پولنگ اسٹیشنز میں دھاندلی کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے ان پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کی سفارش کر دی ۔ اپنی رپورٹ میں ریٹرنگ افسر نے کہاکہ پریذائیڈنگ افسران نے تاخیر سے پہنچے پر حیلے بہانے بنائے۔ پریذ ائنڈنگ افسر کے فارم 45 کے تحت پی ٹی آئی امیدوار کو 12 ہزار 763 جبکہ نون لیگ کی نوشین افتخار کو 3500 ووٹ ملے ۔ فارم 45 کے تحت 1 ہزار 731 ووٹ مسترد بھی ہوئے ۔ دوسری جانب نون لیگ کی امیدوار نوشین افتخار کی جانب سے پیش کیے گئے فارم 45 میں نو ن لیگ 5 ہزار جبکہ تحریک انصاف کے علی اسجد ملحی کے 6 ہزار 705 ووٹ ہیں ۔نون لیگ کے فارم  45  کے مطابق 139 ووٹ  مسترد  ہوئے ۔

ریٹرنگ افسر نے اپنے بیان میں کہا کہ این اے 75 کے 337 پولنگ اسٹیشنز پرکوئی نتیجہ تبدیل نہیں ہوا،ریٹرننگ افسر نے اعتراف کیا کہ 20 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج نہیں مل رہے تھے، ایک پریزائیڈنگ افسر کے علاوہ کسی کا فون نہیں مل رہا تھا، 4 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج پر پریزائیڈنگ افسر کے دستخط ہیں، کچھ پولنگ اسٹیشنز کے نتائج پر انگوٹھوں کے نشانات نہیں ہیں۔ جب نتائج دینے آئے تو پریذائڈنگ افسران سے پوچھ گچھ کی۔۔کچھ نے کہا گاڑی خراب ہوگئی ،کسی نے کہا موسم خراب تھا۔

چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دئیے اگر الیکشن ٹھیک ہوا تو نتیجہ جاری ہوگا، اگر ٹھیک نہیں ہوا تو ری پول کر اسکتے ہیں۔ممبر پنجاب الطاف قریشی نے استفسار کیا کہ کیا موبائل کمپنیوں سے پریزائیڈنگ افسران کی لوکیشن معلوم کرائی گئی ؟ریٹرننگ افسر نے کہا کہ ڈی پی او کا نمبر بند تھا ،ان سے رابطہ نہیں ہوسکا۔محکمہ موسمیات سے دھند سے متعلق سوال پوچھا تو آر او نے کوئی جواب نہ دیا۔

پی ٹی آئی امیدوار کے وکیل علی بخاری نےدلائل میں کہا کہ نوشین افتخار کی درخواست کیساتھ کوئی تصدیق شدہ دستاویز نہیں۔بہتر ہوتا کہ انتخابی نتائج کو ٹربیونل میں چیلنج کیا جاتا۔دستاویزات جمع کرانے کیلئے ایک ہفتے کا وقت مانگا تو ممبر پنجاب نے ریمارکس دئیے کہ اب موسم خراب نہیں ہے ایک دن میں جواب دیں،تاخیر سے آپ کا نقصان ہوگا۔ کیس کی مزید سماعت 25 فروری کو ہوگی۔

Comments are closed.