فائزرز کی کورونا ویکسین کا حاملہ خواتین پر ٹرائل شروع

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق دنیا بھر میں کورونا ویکسین کے حاملہ خواتین پر ٹرائل کا سب سے پہلے فائزر اور بائیو این ٹیک نے آغاز کردیا ہے۔ یہ ٹرائل امریکا، کینیڈا، ارجنٹائن، برازیل، چلی، موزمبیق، جنوبی افریقہ، برطانیہ اور اسپین میں ہوں گے۔فائزر کورونا ویکسین ٹرائل میں سے تعلق رکھنے والی 18 سال سے زائد عمر والی 4 ہزار وہ حاملہ خواتین حصہ لے رہی ہیں جن کا حمل 24 سے 34 ویں ہفتے کے دوران ہے جب کہ پلاسیبو گروپ میں شامل خواتین کو بچوں کی پیدائش کے بعد ویکسین فراہم کی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق حاملہ خواتین پر ٹرائل کے دوران سب سے اہم بات اس بات کا مطالعہ کرنا ہوگا کہ آیا تحفظ فراہم کرنے والی کورونا ویکسین سے حاملہ خواتین میں پیدا ہونے والے اینٹی باڈیز بچوں میں منتقل ہوتے ہیں۔چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر اوزلم ٹورسی نے کا کہنا ہے کہ کورونا ویکسین ٹرائل کے اگلے قدم کے طور پر حاملہ خواتین پر اثرات کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ مستقبل میں حاملہ خواتین کو مہلک وائرس سے حفاظت فراہم کی جا سکے۔

فائزر سے وابستہ کلینیکل ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے سینیئر نائب صدر ڈاکٹر ولیم گروبر نے ٹرائل کے نتائج کے حوالے سے بتایا کہ 2021 کے آخری 3 ماہ میں ڈیٹا جاری ہونے کے امکانات روشن ہیں۔فائزر حاملہ خواتین کے بعد بچوں میں بھی کورونا ویکسین کے ٹرائل کا ارادہ رکھتی ہے لیکن آکسفورڈ یونیورسٹی اور آسٹرازینیکا نے بچوں میں ٹرائل کا پہلے ہی آغاز کردیا ہے تاہم حاملہ خواتین میں سب سے پہلے ٹرائل فائزر نے شروع کیا ہے۔ماہرین نے خبردار کیا تھا حاملہ خواتین کے کورونا میں مبتلا ہونے سے پیچیدگیوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوجاتا ہے جس سے زچہ و بچہ کی جان بھی جان سکتی ہے۔ امریکا کے نیشنل انسٹیٹوٹ آف ہیلتھ نے بھی دوا ساز کمپنیوں سے حاملہ خواتین پر ٹرائل کا مطالبہ کیا تھا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.