انسٹیٹیوٹ آف انجینئرز پاکستان کا انجینئرز کی پیشہ وارانہ تربیت و ترقی کے لئے سیشن

اسلام آباد: انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرز پاکستان کی جانب سے گریجویٹ انجینئرز کے لئے ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی اور تشخیص سے متعلق ایک تکنیکی لیکچر کا انعقاد کیا گیا۔ جس کا مقصد نوجوان انجینئرز کو ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کے لئے ان کے کردار اور ذمہ داریوں سے آگاہ کرنا تھا۔

انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرز پاکستان کے راولپنڈی اسلام آباد سینٹر نے اس پروگرام کا اہتمام نوجوان انجینئرز کے لئے ان کے پیشہ ورانہ ترقیاتی پروگرام (سی پی ڈی) کے ایک حصے کے طور پر کیا تھا۔ وائس چانسلر قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی گلگت بلتستان انجینئر پروفیسر ڈاکٹر عطا اللہ شاہ اس کے ریسورس پرسن تھے جنہوں نے سرکاری شعبے کے منصوبوں پر عملدرآمد میں نگرانی اور جائزہ لینے کے مختلف پہلوں کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔

 سی پی ڈی کے کنوینئر انجینئراحمد شمیم نے اس سیشن کا انعقاد کیا اور اس لیکچر میں پچاس سے زیادہ انجینئرز شریک ہوئے۔ اس موقع پرچیئرمین آئی ای پی آرک، انجینئرحافظ ایم احسان الحق قاضی، سیکرٹری آئی ای پی، آر آئی سی کیپٹن (ر) انجینئر نجم الدین اور چیئرمین بلڈنگ کمیٹی آئی ای پی پروفیسر ڈاکٹر شریف بھٹی بھی موجود تھے۔ لیکچر میں یہ بتایا گیا کہ نگرانی اور جائزہ کسی بھی منصوبے کے متعین اہداف کے حصول کے لئے احتساب کے طاقتور طریقہ کار کے طور پر کام کرسکتا ہے۔

Activity - Insert animated GIF to HTML

انجینئر ڈاکٹر عطا اللہ نے نوجوان انجینئرز کے ساتھ اپنا بھر پور تجربہ اور مہارت کا تبادلہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ منصوبوں پر عمل درآمد کے دوران ترقیاتی منصوبوں کے اثرات اور نتائج کو بھی دھیان میں رکھا جائے۔ منصوبوں کی نگرانی کا کام کام کے معیار اور ضروری معیار کو برقرار رکھنے پر ہونا چاہئے۔ گریجویٹ انجینئروں کو منصوبوں کی مناسب نگرانی کے لئے ڈیٹا اکٹھا کرنے کی تکنیک کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔

 انہوں نے مطلوبہ نتائج کے حصول کے لئے ڈیزائننگ اور مانیٹرنگ سسٹم اور منصوبوں کے عملدرآمد کے مختلف طریقوں کے بارے میں بھی بتایا۔ انجینئرحافظ ایم احسان الحق قاضی نے اپنے اختتامی کلمات میں کسی منصوبے کی نگرانی اور جائزہ لیتے ہوئے نتیجہ خیز حکمت عملی اپنانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آئی ای پی (راولپنڈی۔اسلام آباد) سینٹر نوجوان انجینئر کے لئے باقاعدگی سے استعداد کار کے پروگرام جاری رکھے گا۔

Comments are closed.