زرعی شعبے کیلئے ہم کچھ نہیں کر سکے، وفاقی وزیرغلام سرورخان پھٹ پڑے

 اسلام آباد:اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے زرعی مصنوعات کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وزیر غلام سرور خان نے کہاکہ کابینہ میں بیٹھ کر بے بس ہوں ، ،اڑھائی تین سالوں میں زرعی شعبے کیلئے ہم کچھ نہیں کر سکے۔اپنے زمیندارکیساتھ اتنا ظلم نہ کیا جائے۔

وفاقی وزیر غلام سرور خان نے کہاکہ گندم کی پیداوار ہر سال کم ہوتی جا رہی ہے، ہم زرعی شعبے کو کوئی ریلیف نہیں دے سکے، 52 ارب روپے کے جس پیکج کا ا علان ہوا کم از کم اس کو یقینی بنایا جائے ۔ ہم گند م در آمد کر رہے ہیں لیکن حکومت اپنے زمیندار کو کچھ دینے کو تیار نہیں۔ درآمدی گندم 2400 روپے من پڑ رہی ہے لیکن زمیندار کو 1800 روپے دے رہے ہیں،اپنے زمیندارکیساتھ اتنا ظلم نہ کیا جائے۔ غلام سرور خان نے کہاکہ سندھ نے جو ریٹ دو ہزار رکھا ہے وہ حقیقت پر مبنی ہے۔گزشتہ سال ڈی اے پی 28 سو روپے تھی اس سال 6 ہزار ہے،خدا کا خوف کریں۔ دکھ ہوتا ہے کہ کابینہ میں ہماری بات سنی نہیں جاتی بلکہ بزنس مین کی بات سنی جاتی ہے ۔

وفاقی وزیر سید فخر امام نے کہاکہ 16دستمبر 2019 کو گندم کی قیمت بڑھی، وفاق کے سامنے 1750 روپے من کی سمر رکھی تھی ۔ اسپیکر اسد قیصر کاکہنا تھاکہ کمیٹی کی سفارشات پر پر من و عن عملدرآمد کی ضرورت ہے۔کسان خوشحال ہو گا تو پاکستان خوشحال ہو گا۔ وزیر خزانہ حماد اظہر نے کہاکہ زرعی مصنوعات کی کمیٹی کو وزارت خزانہ کابھرپور تعاون حاصل رہے گا۔

Comments are closed.